المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ كَانَ أَشَدَّ اجْتِهَادًا فِي الْعِبَادَةِ باب: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عبادت میں بہت زیادہ مجاہدہ کرنے والے تھے
حدیث نمبر: 6103
حدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الحسن، حَدَّثَنَا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن معاوية بن قُرَّة قال: كان عِمرانُ بن الحُصَين من أشدِّ أصحاب رسول الله ﷺ اجتهادًا في العبادة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5990 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں عبادت کی مشقت اور اس میں انتہائی جدوجہد کرنے کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت کوش تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح إن شاء الله. محمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس، وهشيم: هو ابن بشير، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية، أما علي بن الحسن، فيحتمل أنه الهِسِنْجاني، فقد روى عنه محمد بن أيوب فيما مضى برقم (2178)، ويحتمل غيره، ففي طبقته غير واحد يقال له: علي بن الحسن، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس، ہشیم سے مراد ابن بشیر اور ابو بشر سے مراد جعفر بن ابی وحشیہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: علی بن الحسن کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ "السنجانی" ہوں کیونکہ محمد بن ایوب ان سے پہلے بھی روایت کر چکے ہیں، تاہم اس طبقے میں اس نام کے دیگر راوی بھی موجود ہیں۔ واللہ اعلم۔
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس، ہشیم سے مراد ابن بشیر اور ابو بشر سے مراد جعفر بن ابی وحشیہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: علی بن الحسن کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ "السنجانی" ہوں کیونکہ محمد بن ایوب ان سے پہلے بھی روایت کر چکے ہیں، تاہم اس طبقے میں اس نام کے دیگر راوی بھی موجود ہیں۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6103 سے ماخوذ ہے۔