کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
أخبرني إبراهيم بن عِصْمةَ العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو هِلال الراسِبيّ، عن قَتَادة، قال: لما حَضَرَت عمرَو بنَ العاص الوفاةُ قال: كِيلُوا مالي، فكالُوه فوجدُوه اثنين وخمسين مُدًّا، فقال: مَن يأخُذُه بما فيه (1)؟ يا ليتَه كان بَعْرًا. قال: وكان المُدُّ ستةَ عشرَ أُوقِيةً، الأُوقيّة منه مَكُّوكَانِ، ومات عمرو بن العاص يومَ الفِطر، وقد بلغ أربعًا وتسعين سنًة، وصلَّى عليه ابنُه عبدُ الله، ودُفن بالمُقطَّم في سنة ثلاث وأربعين، ثم استعملَ معاويةُ على مصر وأعمالِها أخاه عُتْبةَ (2) بن أبي سفيان (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5907 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
قتادہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: ”میرا مال ناپو“، تو اسے ناپا گیا اور وہ باون مد نکلا، انہوں نے فرمایا: ”کون ہے جو اسے اس کی تمام ذمہ داریوں سمیت لے لے؟ کاش کہ یہ لید (گوبر) ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مد سولہ اوقیہ کا ہوتا تھا اور ایک اوقیہ دو مکُّوک کے برابر ہوتا تھا، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات عید الفطر کے دن ہوئی جبکہ ان کی عمر چورانوے برس تھی، ان کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور انہیں سن 43 ہجری میں مقطم (مصر) میں دفن کیا گیا، اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عتبہ بن ابی سفیان کو مصر اور اس کے مضافات کا گورنر مقرر کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6021
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأس بهم
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، قتادة لم يُدرك عمرو بن العاص. أبو هِلال الراسبي: هو محمد بن سُلَيم.» [ترقيم الرساله 6021] [ترقيم الشركة 5962] [ترقيم العلميه 5907]
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال عَمرو بن العاص بن وائل بن هاشم بن سُعَيد بن سَهْم، ويُكنى أبا عبد الله، وأمُّه النابغة بنت خُزيمة سَبِيّةٌ (4) من عَنَزَة، وأخواه لأُمِّه عمرو بن أُثاثة بن عبّاد بن المُطَّلب (5) بن عبد مَنافٍ بن قُصَيّ، و [أرنبُ بنت] (1) عَفيف بن أبي العاص بن أُميَّة بن عبد شَمْس، واختُلف في وقت وفاته.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سہم رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی، ان کی والدہ نابغہ بنت خزیمہ تھیں جو قبیلہ عنزہ سے تعلق رکھنے والی ایک قیدی خاتون تھیں، ان کے مادری بھائیوں میں عمرو بن اثاثہ بن عباد بن مطلب بن عبد مناف بن قصی اور ارنب بنت عفیف بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس شامل تھے، ان کی وفات کے وقت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6022
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6022] [ترقيم الشركة 5963]
فحدّثني (2) عبد الله بن أبي يحيى، عن عمرو بن شُعيب، قال: توفي عَمرو بن العاص يومَ الفِطر بمصرَ سنةَ اثنتين وأربعين، وهو والٍ عليها، وسمعتُ مَن يَذكُر أنه تُوفّي سنةَ ثلاثٍ وأربعين، وسمعتُ بعض أهلِ العلم يَذكُر أنه تُوفّي سنة إحدى وخمسين (3). وأصحُّ ما سَمِعْنا في وقت وفاة عمرو بن العاص:
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات سن 42 ہجری میں مصر میں عید الفطر کے دن ہوئی جب وہ وہاں کے گورنر تھے، میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ان کی وفات سن 43 ہجری میں ہوئی اور بعض اہل علم کا ذکر سنا کہ ان کا انتقال سن 51 ہجری میں ہوا۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں جو سب سے درست بات ہم نے سنی وہ یہ ہے کہ:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6022M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6022M] [ترقيم الشركة 5964]
أني سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بنَ مَعين يقول: مات عمرو بن العاص سنة ثلاث وأربعين، ودُفن بمصر (4).
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا انتقال سن 43 ہجری میں ہوا اور وہ مصر میں دفن کیے گئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6023
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6023] [ترقيم الشركة 5965]
فحدثني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، أخبرني أبو يونس (5)، أخبرني إبراهيم بن المنذر، قال: عمرو بن العاص بن وائل قَدِمَ على رسول الله ﷺ سنةَ ثمانٍ، يكنى أبا عبد الله، وتُوفِّي بمصر يومَ الفِطر سنةَ اثنتين وأربعين، وهو والٍ عليها.
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ سن 8 ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور وہ سن 42 ہجری میں عید الفطر کے دن مصر میں وفات پا گئے جبکہ وہ وہاں کے گورنر تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6024
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6024] [ترقيم الشركة 5966]