حدیث نمبر: 6021
أخبرني إبراهيم بن عِصْمةَ العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو هِلال الراسِبيّ، عن قَتَادة، قال: لما حَضَرَت عمرَو بنَ العاص الوفاةُ قال: كِيلُوا مالي، فكالُوه فوجدُوه اثنين وخمسين مُدًّا، فقال: مَن يأخُذُه بما فيه (1)؟ يا ليتَه كان بَعْرًا. قال: وكان المُدُّ ستةَ عشرَ أُوقِيةً، الأُوقيّة منه مَكُّوكَانِ، ومات عمرو بن العاص يومَ الفِطر، وقد بلغ أربعًا وتسعين سنًة، وصلَّى عليه ابنُه عبدُ الله، ودُفن بالمُقطَّم في سنة ثلاث وأربعين، ثم استعملَ معاويةُ على مصر وأعمالِها أخاه عُتْبةَ (2) بن أبي سفيان (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5907 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

قتادہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: ”میرا مال ناپو“، تو اسے ناپا گیا اور وہ باون مد نکلا، انہوں نے فرمایا: ”کون ہے جو اسے اس کی تمام ذمہ داریوں سمیت لے لے؟ کاش کہ یہ لید (گوبر) ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مد سولہ اوقیہ کا ہوتا تھا اور ایک اوقیہ دو مکُّوک کے برابر ہوتا تھا، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات عید الفطر کے دن ہوئی جبکہ ان کی عمر چورانوے برس تھی، ان کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور انہیں سن 43 ہجری میں مقطم (مصر) میں دفن کیا گیا، اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عتبہ بن ابی سفیان کو مصر اور اس کے مضافات کا گورنر مقرر کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6021
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأس بهم
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، قتادة لم يُدرك عمرو بن العاص. أبو هِلال الراسبي: هو محمد بن سُلَيم.» [ترقيم الرساله 6021] [ترقيم الشركة 5962] [ترقيم العلميه 5907]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قوله: بما فيه أثبتناه من "تلخيص الذهبي" ومن نسخة المحمودية كما في طبعة الميمان، ولم يرد في سائر نسخنا الخطية.
نوٹ / توضیح: ان کا قول "بما فیہ" ہم نے ذہبی کی "تلخیص" اور نسخہ محمودیہ (جیسا کہ میمنیہ ایڈیشن میں ہے) سے ثابت کیا ہے، یہ ہمارے باقی قلمی نسخوں میں نہیں ہے۔
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: عنبسة، وهما أخوان لمعاوية، لكن الذي ولي مصر هو عُتْبة لا عَنْبَسة. انظر "كتاب الولاة وكتاب القضاة" لمحمد بن يوسف الكِنْدي المصري ص 29.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عنبسہ" بن گیا ہے۔ عنبسہ اور عتبہ دونوں معاویہ کے بھائی ہیں، لیکن جو مصر کے والی بنے وہ "عُتبہ" تھے نہ کہ "عَنبسہ"۔ دیکھیں: محمد بن یوسف الکندی المصری کی "كتاب الولاة وكتاب القضاة" (ص 29)۔
(3) رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، قتادة لم يُدرك عمرو بن العاص. أبو هِلال الراسبي: هو محمد بن سُلَيم.
درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے، قتادہ نے عمرو بن العاص کو نہیں پایا۔
فنی نکتہ / علّت: ابو ہلال الراسبی سے مراد محمد بن سلیم ہیں۔
والمُقطّم: جبل يقع شرق القاهرة، مُطِلٌّ على القَرافة، وهي مقبرة الفُسطاط.
نوٹ / توضیح: "المقطّم": قاہرہ کے مشرق میں واقع ایک پہاڑ ہے جو "قرافہ" (فسطاط کا قبرستان) پر مشرف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6021 سے ماخوذ ہے۔