کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ رائے اور تدبیر والے صحابی تھے
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المُزكِّي ﵁، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظُ، حدثنا يعقوبُ بن يوسفَ بن زياد، حدثنا أبو حفصٍ الأَعشَى، أخبرني بَسّامٌ الصيرفي، عن أبي الطُّفيل الكِناني، أخبرني حُباب بن المُنذِر الأنصاري، قال: أشَرتُ على رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ بخَصْلَتَين، فقَبِلَهما منّي، خرجتُ مع رسول الله له في غَزاة بدر، فعَسْكَر خلفَ الماءِ، فقلتُ: يا رسول الله، أبوَحْيٍ فعلتَ أو برأيٍ؟ قال: "برأيٍ يا حُبابُ" قلتُ: فإنَّ الرأي أن تجعلَ الماءَ خَلْفَكَ، فإن لجأَتَ لجأتَ إليه، فقَبِلَ ذلك منّي (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5801 - حديث منكر وسنده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5801 - حديث منكر وسنده
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حباب بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے غزوۂ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کو دو مشورے دیے جو آپ ﷺ نے مجھ سے قبول فرما لیے، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر کے لیے نکلا تو آپ ﷺ نے پانی کے پیچھے پڑاؤ ڈالا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے یہ مقام وحی کے تحت منتخب کیا ہے یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حباب! یہ میری رائے ہے۔“ میں نے عرض کی: پھر بہتر رائے یہ ہے کہ آپ پانی کو اپنے پیچھے رکھیں (تاکہ کنوؤں پر ہمارا قبضہ ہو جائے)، چنانچہ آپ ﷺ نے میرا یہ مشورہ قبول فرما لیا۔
فحدثني أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا ابن أبي حَبيبة، عن داود بن الحُصين، عن عكرمة، عن ابن عبّاس، قال: نزل جبريلُ ﵇ على رسول الله ﷺ فقال: الرأيُ ما أشارَ إليه الحُبَاب، فقال رسول الله ﷺ: "يا حُبَابُ، أَشَرْتَ بالرأيِ" (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5802 - حديث منكر وسنده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5802 - حديث منكر وسنده
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس نازل ہوئے اور عرض کی: بہترین رائے وہی ہے جو حباب نے دی ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے حباب! تم نے درست مشورہ دیا تھا۔“
حدثني أبو إسحاق المُزكِّي، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظ، حدثنا يعقوب بن يوسف بن زياد الضَّبيِّ، حدثنا أبو حفص الأعشى، حدثنا بَسّام الصَّيْرَفي، عن أبي الطُّفيل الكِنَاني عن حُباب بن المنذر، قال: ونزل جبريلُ ﵇ على محمد ﷺ فقال: أيُّ الأمرين أحبُّ إليك: تكونُ في دُنياك مع أصحابِك، أو تَرِدُ على ربِّك فيما وَعَدَك من جناتِ النَّعِيم؛ من الحُورِ العِين والنَّعيم المُقِيم، وما اسْتَهَتْ نفسُك، وما قَرّت به عَينُك؟ فاستشارَ أصحابَه، فقالوا: يا رسول الله، تكون معنا أحبُّ إلينا، وتُخبِرُنا بعَوْراتِ عَدوّنِا، وتَدعُو الله لينصُرَنا عليهم، وتُخبِرُنا من خَبرِ السماء، فقال رسول الله ﷺ: "ما لكَ لا تَتكلّمُ يا حُبَابُ؟ " فقلت: يا رسول الله، اختَرْ حيثُ اختارَ لك ربُّك، فقَبِل ذلك مِنّي (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5803 - حديث منكر وسنده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5803 - حديث منكر وسنده
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام محمد ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کی: آپ کو ان دو باتوں میں سے کون سی زیادہ پسند ہے: یہ کہ آپ اپنی دنیا میں اپنے صحابہ کے ساتھ رہیں، یا اپنے رب کے پاس ان نعمتوں والی جنتوں میں چلے جائیں جس کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے، جہاں حورِ عین، دائمی سکون اور وہ سب کچھ ہے جس کی آپ کا نفس خواہش کرے اور جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں؟ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کا ہمارے پاس رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے تاکہ آپ ہمیں دشمنوں کی کمزوریوں سے آگاہ کریں، اللہ سے ہماری نصرت کی دعا کریں اور ہمیں آسمانی خبریں بتائیں، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے حباب! تم کیوں کچھ نہیں کہتے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ وہی انتخاب فرمائیے جو آپ کے رب نے آپ کے لیے پسند فرمایا ہے، آپ ﷺ نے میرا یہ مشورہ قبول فرما لیا۔
حدثنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا عبد الله ابن محمد بن أسماء، حدثنا جُوَيريَةُ، عن مالك، عن الزُّهْري، سمع سعيدَ بن المسيّب يَزعُم: أنَّ الذي قال يومَ السَّقِيفة: أنا جُذَيلُها المُحَكَّكُ، رجلٌ من بني سَلِمةَ يقال له: الحُبَاب بن المُنذِر (1). ذكرُ مناقب صَفْوانَ بن أُمَيَّة الجُمَحيِّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5804 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5804 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سقیفہ بنی ساعدہ کے دن جس شخص نے یہ کہا تھا کہ ”میں اس (قوم) کا وہ چھوٹا سا لکڑی کا ستون ہوں جس سے (خارش زدہ اونٹ) رگڑ کھا کر سکون پاتے ہیں (یعنی میں نہایت تجربہ کار اور قابلِ اعتماد ہوں اور میں وہ باڑھ والا بڑا درخت ہوں جس سے سہارا لیا جاتا ہے)۔“ وہ بنو سلمہ کا ایک شخص تھا جسے سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔