المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ كَانَ مِنْ ذَوِي الرَّأْيِ باب: سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ رائے اور تدبیر والے صحابی تھے
حدثني أبو إسحاق المُزكِّي، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظ، حدثنا يعقوب بن يوسف بن زياد الضَّبيِّ، حدثنا أبو حفص الأعشى، حدثنا بَسّام الصَّيْرَفي، عن أبي الطُّفيل الكِنَاني عن حُباب بن المنذر، قال: ونزل جبريلُ ﵇ على محمد ﷺ فقال: أيُّ الأمرين أحبُّ إليك: تكونُ في دُنياك مع أصحابِك، أو تَرِدُ على ربِّك فيما وَعَدَك من جناتِ النَّعِيم؛ من الحُورِ العِين والنَّعيم المُقِيم، وما اسْتَهَتْ نفسُك، وما قَرّت به عَينُك؟ فاستشارَ أصحابَه، فقالوا: يا رسول الله، تكون معنا أحبُّ إلينا، وتُخبِرُنا بعَوْراتِ عَدوّنِا، وتَدعُو الله لينصُرَنا عليهم، وتُخبِرُنا من خَبرِ السماء، فقال رسول الله ﷺ: "ما لكَ لا تَتكلّمُ يا حُبَابُ؟ " فقلت: يا رسول الله، اختَرْ حيثُ اختارَ لك ربُّك، فقَبِل ذلك مِنّي (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5803 - حديث منكر وسندهسیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام محمد ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کی: آپ کو ان دو باتوں میں سے کون سی زیادہ پسند ہے: یہ کہ آپ اپنی دنیا میں اپنے صحابہ کے ساتھ رہیں، یا اپنے رب کے پاس ان نعمتوں والی جنتوں میں چلے جائیں جس کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے، جہاں حورِ عین، دائمی سکون اور وہ سب کچھ ہے جس کی آپ کا نفس خواہش کرے اور جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں؟ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کا ہمارے پاس رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے تاکہ آپ ہمیں دشمنوں کی کمزوریوں سے آگاہ کریں، اللہ سے ہماری نصرت کی دعا کریں اور ہمیں آسمانی خبریں بتائیں، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے حباب! تم کیوں کچھ نہیں کہتے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ وہی انتخاب فرمائیے جو آپ کے رب نے آپ کے لیے پسند فرمایا ہے، آپ ﷺ نے میرا یہ مشورہ قبول فرما لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "واہی" (نہایت کمزور) ہے جیسا کہ نمبر (5918) پر گزرا۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اس حدیث اور اس کی سند کا انکار کیا ہے (منکر قرار دیا ہے)۔