المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ كَانَ مِنْ ذَوِي الرَّأْيِ باب: سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ رائے اور تدبیر والے صحابی تھے
حدیث نمبر: 5918
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المُزكِّي ﵁، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظُ، حدثنا يعقوبُ بن يوسفَ بن زياد، حدثنا أبو حفصٍ الأَعشَى، أخبرني بَسّامٌ الصيرفي، عن أبي الطُّفيل الكِناني، أخبرني حُباب بن المُنذِر الأنصاري، قال: أشَرتُ على رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ بخَصْلَتَين، فقَبِلَهما منّي، خرجتُ مع رسول الله له في غَزاة بدر، فعَسْكَر خلفَ الماءِ، فقلتُ: يا رسول الله، أبوَحْيٍ فعلتَ أو برأيٍ؟ قال: "برأيٍ يا حُبابُ" قلتُ: فإنَّ الرأي أن تجعلَ الماءَ خَلْفَكَ، فإن لجأَتَ لجأتَ إليه، فقَبِلَ ذلك منّي (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5801 - حديث منكر وسندهحافظ طلحہ بابر
سیدنا حباب بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے غزوۂ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کو دو مشورے دیے جو آپ ﷺ نے مجھ سے قبول فرما لیے، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر کے لیے نکلا تو آپ ﷺ نے پانی کے پیچھے پڑاؤ ڈالا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے یہ مقام وحی کے تحت منتخب کیا ہے یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حباب! یہ میری رائے ہے۔“ میں نے عرض کی: پھر بہتر رائے یہ ہے کہ آپ پانی کو اپنے پیچھے رکھیں (تاکہ کنوؤں پر ہمارا قبضہ ہو جائے)، چنانچہ آپ ﷺ نے میرا یہ مشورہ قبول فرما لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده واهٍ من أجل أبي حفص الأعشى - وهو عمرو بن خالد - فهو متروك الحديث، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الثقات، والراوي عنه يعقوب بن يوسف لا يُعرف. وقال الذهبي في "تلخيصه": حديث منكرٌ وسندُه. يعني وسنده منكر كذلك.
درجۂ حدیث: یہ سند ابو حفص الاعشی (عمرو بن خالد) کی وجہ سے "واہی" (نہایت کمزور) ہے، وہ "متروک الحدیث" ہیں اور ابن حبان نے کہا کہ وہ ثقہ راویوں سے من گھڑت روایات بیان کرتے ہیں۔ ان سے روایت کرنے والا یعقوب بن یوسف غیر معروف ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: "حدیث منکر ہے اور اس کی سند بھی۔"
يغني عنه في شأن مشورة الحباب ما تقدم من المراسيل عند تخريج سابقه، ولا بأس بها.
نوٹ / توضیح: حباب کے مشورے کے بارے میں وہ "مرسل" روایات کافی ہیں جو پچھلی حدیث کی تخریج میں گزر چکیں، اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہا)۔
أبو الطُّفيل الكناني: هو عامر بن واثلة، له رُؤية.
فنی نکتہ / علّت: ابو الطفیل الکنانی سے مراد عامر بن واثلہ ہیں، انہیں شرفِ دیدار (رویت) حاصل ہے۔
وهذا الحديث والحديث الآتي برقم (5920) حديثٌ واحدٌ فرَّقهما المصنِّف.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث اور آگے نمبر (5920) پر آنے والی حدیث دراصل ایک ہی حدیث ہیں جنہیں مصنف نے الگ الگ کر دیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند ابو حفص الاعشی (عمرو بن خالد) کی وجہ سے "واہی" (نہایت کمزور) ہے، وہ "متروک الحدیث" ہیں اور ابن حبان نے کہا کہ وہ ثقہ راویوں سے من گھڑت روایات بیان کرتے ہیں۔ ان سے روایت کرنے والا یعقوب بن یوسف غیر معروف ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: "حدیث منکر ہے اور اس کی سند بھی۔"
يغني عنه في شأن مشورة الحباب ما تقدم من المراسيل عند تخريج سابقه، ولا بأس بها.
نوٹ / توضیح: حباب کے مشورے کے بارے میں وہ "مرسل" روایات کافی ہیں جو پچھلی حدیث کی تخریج میں گزر چکیں، اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہا)۔
أبو الطُّفيل الكناني: هو عامر بن واثلة، له رُؤية.
فنی نکتہ / علّت: ابو الطفیل الکنانی سے مراد عامر بن واثلہ ہیں، انہیں شرفِ دیدار (رویت) حاصل ہے۔
وهذا الحديث والحديث الآتي برقم (5920) حديثٌ واحدٌ فرَّقهما المصنِّف.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث اور آگے نمبر (5920) پر آنے والی حدیث دراصل ایک ہی حدیث ہیں جنہیں مصنف نے الگ الگ کر دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5918 سے ماخوذ ہے۔