حدیث نمبر: 5922
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: وماتَ أبو أُهَيبٍ صفوانُ بن أُميَّة بن خَلَفَ بن وَهْب بن حُذَافَةَ بن جُمَحَ، وكان إسلامُه عند الفتح، مات سنة ثلاثٍ وأربعينَ (2). ذكرُ مناقب عُثمان بن طَلْحة بن أبي طَلْحة ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

ابو أہیب سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب بن حذافہ بن جمح رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ ان کا اسلام لانا فتح مکہ کے موقع پر ہوا تھا، اور آپ کی وفات سن 43 ہجری میں ہوئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5922
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5922] [ترقيم الشركة 5864]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا ذكر ابن نمير كنية صفوان أبا أُهيب، بينما كناه غيره أبا وهب كأبي اليقظان فيما نقله عنه خليفة في "الطبقات" ص 24، وابن سعد في "الطبقات" 8/ 10، وأحمد بن حنبل في "الأسامي والكنى" (353)، والبخاري في "تاريخه الكبير" 4/ 304، ومسلم في "الكنى والأسماء" (3484) وغيرهم.
نوٹ / توضیح: ابن نمیر نے صفوان کی کنیت "ابو اہیب" ذکر کی ہے، جبکہ دوسروں نے "ابو وہب" کنیت بتائی ہے، جیسے ابو الیقظان نے (جسے خلیفہ نے "الطبقات" ص 24 میں نقل کیا)، ابن سعد نے "الطبقات" (8/ 10)، احمد بن حنبل نے "الأسامي والكنى" (353)، بخاری نے "التاریخ الکبیر" (4/ 304) اور مسلم نے "الکنی والأسماء" (3484) وغیرہ میں۔
وقيل: يُكنى أبا أميَّة، كما جاء في بعض الروايات أن النبي ﷺ ناداه بأبي أمية، كما في "مغازي الواقدي" 1/ 125، و"سيرة ابن هشام" 2/ 440.
نوٹ / توضیح: بعض نے کہا کہ ان کی کنیت "ابو امیہ" ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں "ابو امیہ" کہہ کر پکارا (مغازي الواقدي: 1/ 125، سیرت ابن ہشام: 2/ 440)۔
واختُلف في سَنَة وفاة صفوان بن أميّة، فقيل: إنَّ وفاته كانت سنة إحدى وأربعين، قاله الهيثم ابن عدي كما في "مولد العلماء ووفياتهم" لابن زَبْر الرَّبَعي 1/ 137، وقيل: مات سنة اثنتين وأربعين، وهو الأكثر، قاله خليفة بن خياط في "تاريخه" ص 205، وابن حبان في "الثقات" 3/ 191، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 344 وغيرهم.
نوٹ / توضیح: صفوان بن امیہ کی وفات کے سال میں اختلاف ہے۔ ہیثم بن عدی (ابن زبر الربعی کی "مولد العلماء" 1/ 137 میں) کہتے ہیں کہ سن 41 ہجری میں ہوئی۔ اور کہا گیا کہ سن 42 ہجری میں ہوئی، اور یہی زیادہ (اکثر کا) قول ہے۔ یہ بات خلیفہ بن خیاط نے "تاریخ" (ص 205)، ابن حبان نے "الثقات" (3/ 191) اور ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (ص 344) وغیرہ میں کہی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5922 سے ماخوذ ہے۔