حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا سعد بن أوسٍ، عن بلال بن يحيى، قال: لما حَضَرَ حذيفةَ الموتُ - وكان قد عاش بعد عثمانَ أربعين ليلةً - قال لنا: أُوصِيكُم بتقوى الله والطاعةِ لأمير المؤمنين عليِّ بن أبي طالب (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5626 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5626 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
بلال بن یحییٰ سے روایت ہے کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا - اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد چالیس دن تک زندہ رہے تھے - تو انہوں نے ہمیں وصیت کی: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی وصیت کرتا ہوں۔“
أخبرنا أبو إسحاق المُزكِّي، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا سفيانُ، عن مَنصُور، قال: سمعت رِبعيَّ بن حِراشٍ، قال: جاء رجلٌ إلى حذيفةَ، فقال: يا أبا عبد الله (2).
حافظ طلحہ بابر
ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اے ابو عبداللہ!“
وأخبرنا أبو إسحاق، أخبرنا محمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن الصَّبَّاح، أخبرنا جَرير، عن إسماعيل، عن قَيس، قال: لما أُتي حذيفةُ بكَفَنِه، وكان مُسنِدًا (3) إلى أبي مسعود (4)، قال: فأُتي بكفَنٍ جَديدٍ، فقال: ما تَصنعُوا (5) بهذا؟ إن كان صاحبُكم صالحًا، لَيُبدِلَنّ اللهُ له، وإن كان غيرَ ذلك ليَضرِبَنَّ اللهُ به وجهَه يومَ القيامة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5628 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5628 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
قیس سے روایت ہے کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا کفن لایا گیا، اور وہ اس وقت سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ کا سہارا لیے ہوئے تھے، راوی کہتے ہیں: ان کے پاس ایک نیا کفن لایا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم اس کا کیا کرو گے؟ اگر تمہارا ساتھی (یعنی میں) نیک ہوا تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر سے بدل دے گا، اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہی کفن اس کے منہ پر مارے گا۔“
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا مِسعَر بن كِدَام، عن عبد الملك بن مَيْسَرة، عن النّزّال بن سَبْرة، عن أبي مسعود الأنصاري، قال: أُغميَ على حُذيفةَ من أول الليل، ثم أفاقَ فقال: أيُّ الليلِ هذا؟ قلتُ: السَّحَرُ الأعلَى، قال: عائذٌ بالله من جَهَنَّم، مرتَين أو ثلاثًا، ثم قال: ابتاعُوا لي ثَوبَين فكفِّنُوني فيهما، ولا تُغْلُوا عَلَيَّ؛ فإن صاحِبَكم إن يُرْضَ عنه [أُلبِسَ] (1) خيرًا منهما، وإلَّا سُلِبَهُما سَلْبًا سريعًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5629 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5629 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رات کے ابتدائی حصے میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی، پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو پوچھا: ”یہ رات کا کون سا وقت ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ سحر کا آخری وقت ہے، تو انہوں نے دو یا تین بار فرمایا: «عَائِذٌ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ» ”میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“، پھر فرمایا: ”میرے لیے دو کپڑے خریدنا اور انہی میں مجھے کفن دینا، اور مجھ پر مہنگا کفن نہ لینا، کیونکہ اگر تمہارا ساتھی (اللہ کے ہاں) پسند کر لیا گیا تو اسے ان سے بہتر لباس پہنایا جائے گا، ورنہ یہ دونوں کپڑے بھی اس سے بڑی تیزی سے چھین لیے جائیں گے۔“
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، أخبرنا إسرائيل، عن مَيْسرة بن حَبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن زِرّ بن حُبَيش، عن حذيفة، عن النبي ﷺ قال: "أتاني جبريلُ ﵇، فقال: إنَّ الحَسنَ والحُسينَ سيِّدا شبابِ أهلِ الجنة"، ثم قال لي رسول الله ﷺ: "غَفَر اللهُ لك ولأُمِّك يا حذيفةُ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5630 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5630 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے بتایا: بیشک حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے۔“