أخبرنا الحَسنُ بن محمد الحَلِيمي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عَبد الله، أخبرنا يونس، عن الزُّهري قال: قال عُروة: إنَّ حُذيفةَ بن اليَمَان كان أحدَ بني عَبْس، وكان حليفًا في الأنصار، قُتِل أبُوه مع رسولِ الله ﷺ يومَ أُحُد؛ أخطأَ المُسلِمون به يومَئِذٍ حَسِبُوه من المشركين، فطَفِقَ حذيفةُ يقول: أبي أبي، فلم يَفهَمُوه حتى قَتَلُوه، فأمرَ به رسولُ الله ﷺ فوُدِيَ (1).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بنو عبس میں سے تھے اور انصار کے حلیف تھے، ان کے والد احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ (لڑتے ہوئے) شہید ہوئے؛ اس دن مسلمانوں سے چوک ہو گئی کیونکہ انہوں نے انہیں مشرکین میں سے سمجھ لیا تھا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پکارنے لگے: میرے والد! میرے والد! لیکن وہ (شور میں) سمجھ نہ سکے یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا اور ان کی دیت ادا کی گئی۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: حُذيفة بن حُسَيل بن جابر بن رَبيعة بن عَمرو بن جِرْوة، وجِرْوه هو اليمانُ الذي من ولدِه حذيفةُ، وإنما قيل له: اليَمانُ، لأنه أصابَ في قومِه دَمًا فهَرَب إلى المدينة، فحالف بني عبد الأشْهَل، فسمّاه قومُه اليَمَانَ لأنه حالف اليَمانِيَةَ، شهد حذيفةُ وأبوه حُسَيلٌ وأخوه صفوانُ أُحُدًا، فأما أبوه فقَتَله بعضُ المسلمين يومَئذٍ وهو يَحسَبُه من المشركين، فتصدَّق حذيفةُ بدِيَتهِ على المسلمين، وأما حذيفةُ فشَهِدَ مع رسولِ الله ﷺ مَشاهِدَه بعد بدر، وعاش إلى أول خلافة عليٍّ سنة ستٍّ وثلاثين، وزعم بعضُهم أنه مات بالمدائن سنة خَمس وثلاثين بعد مَقتَل عُثمانَ بأربَعينَ ليلةً (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حذیفہ بن حسیل بن جابر بن ربیعہ بن عمرو بن جروہ، اور جروہ ہی ”الیمان“ ہیں جن کی نسل سے سیدنا حذیفہ ہیں، انہیں ”الیمان“ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان سے ان کی قوم میں ایک خون ہو گیا تھا تو وہ بھاگ کر مدینہ آ گئے اور بنو عبد الاشہل کے حلیف بن گئے، چنانچہ ان کی قوم نے ان کا نام ”الیمان“ رکھ دیا کیونکہ انہوں نے یمانیوں (انصار) سے حلف کر لیا تھا، سیدنا حذیفہ، ان کے والد حسیل اور ان کے بھائی صفوان غزوہ احد میں شریک ہوئے، جہاں تک ان کے والد کا تعلق ہے تو انہیں احد کے دن بعض مسلمانوں نے مشرک سمجھ کر قتل کر دیا تھا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی دیت مسلمانوں پر صدقہ کر دی، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے تمام غزوات میں شریک رہے، اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور یعنی سن 36 ہجری تک زندہ رہے، اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی وفات مدائن میں سن 35 ہجری میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد ہوئی۔
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات حذيفة سنة ستٍّ وثلاثين، وقيل: إنه ماتَ بعد عُثمان بأربَعينَ يومًا (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 36 ہجری میں ہوئی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چالیس دن بعد ہوئی۔
أخبرني مَخلَد بن جعفر الباقَرْحِي، حدثنا محمد بن جَرير، قال: هذا القولُ خطأٌ وأظنُّ بصاحبِه إما أن يكون لم يَعرِف وقتَ الذي (3) قُتِل فيه عثمانُ، وإما أن يكون لم يُحسِن أن يَحسُب، وذلك أنه لا خِلافَ بين أهل السِّيَر كلهم أن عثمانَ قُتل في ذي الحِجّة من سنة خمسٍ وثلاثين من الهِجْرة، وقالت جماعةٌ منهم: قُتل لاثنتي عشرةَ ليلةً بَقِيَت منه، فإذا كان مَقتَلُه في ذي الحِجّة، وعاش حذيفةُ بعده أربعينَ ليلةً، فذلك في السنة التي بعدَها.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن جریر کہتے ہیں: یہ قول غلط ہے، اور میرا خیال ہے کہ اس قول کے قائل کو یا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت کا علم نہیں یا پھر اسے حساب لگانا نہیں آتا، کیونکہ تمام سیرت نگاروں کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ذوالحجہ سن 35 ہجری میں شہید ہوئے، اور ان میں سے ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو شہید ہوئے، پس اگر ان کی شہادت ذوالحجہ میں ہوئی اور سیدنا حذیفہ ان کے بعد چالیس دن زندہ رہے، تو یہ وفات لازماً اگلے سال (36 ہجری) میں بنتی ہے۔