المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: حُذيفة بن حُسَيل بن جابر بن رَبيعة بن عَمرو بن جِرْوة، وجِرْوه هو اليمانُ الذي من ولدِه حذيفةُ، وإنما قيل له: اليَمانُ، لأنه أصابَ في قومِه دَمًا فهَرَب إلى المدينة، فحالف بني عبد الأشْهَل، فسمّاه قومُه اليَمَانَ لأنه حالف اليَمانِيَةَ، شهد حذيفةُ وأبوه حُسَيلٌ وأخوه صفوانُ أُحُدًا، فأما أبوه فقَتَله بعضُ المسلمين يومَئذٍ وهو يَحسَبُه من المشركين، فتصدَّق حذيفةُ بدِيَتهِ على المسلمين، وأما حذيفةُ فشَهِدَ مع رسولِ الله ﷺ مَشاهِدَه بعد بدر، وعاش إلى أول خلافة عليٍّ سنة ستٍّ وثلاثين، وزعم بعضُهم أنه مات بالمدائن سنة خَمس وثلاثين بعد مَقتَل عُثمانَ بأربَعينَ ليلةً (1).
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حذیفہ بن حسیل بن جابر بن ربیعہ بن عمرو بن جروہ، اور جروہ ہی ”الیمان“ ہیں جن کی نسل سے سیدنا حذیفہ ہیں، انہیں ”الیمان“ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان سے ان کی قوم میں ایک خون ہو گیا تھا تو وہ بھاگ کر مدینہ آ گئے اور بنو عبد الاشہل کے حلیف بن گئے، چنانچہ ان کی قوم نے ان کا نام ”الیمان“ رکھ دیا کیونکہ انہوں نے یمانیوں (انصار) سے حلف کر لیا تھا، سیدنا حذیفہ، ان کے والد حسیل اور ان کے بھائی صفوان غزوہ احد میں شریک ہوئے، جہاں تک ان کے والد کا تعلق ہے تو انہیں احد کے دن بعض مسلمانوں نے مشرک سمجھ کر قتل کر دیا تھا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی دیت مسلمانوں پر صدقہ کر دی، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے تمام غزوات میں شریک رہے، اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور یعنی سن 36 ہجری تک زندہ رہے، اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی وفات مدائن میں سن 35 ہجری میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: (1) دیکھیے "مغازی الواقدی" 1/ 233 - 234 اور "الطبقات الکبریٰ" لابن سعد 9/ 319۔ ابو حفص عمرو بن علی الفلاس نے کہا: حذیفہ 35 ہجری میں فوت ہوئے، لیکن جمہور کا کہنا ہے کہ حذیفہ 36 ہجری میں فوت ہوئے۔ دیکھیے "تاریخ دمشق" 12/ 300 - 301 اور "بغیۃ الطلب" 5/ 2157 - 2159۔