کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — اور ان کا اصل نام حذیفہ بن حُسیل ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص صحابی تھے
قال ابن عُمر: وهو قُدامة بن مَظْعُون بن حبيب بن جُمَح بن عمرو بن هُصَيص بن كعب بن لُؤي، أسلمَ قبل دخولِ رسولِ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يدعوَ فيها، وهو أخو عثمان بن مَظعُون، وهاجَرَ قُدامةُ إلى أرض الحَبَشة الهِجرةَ الثانيةَ، وكانت تحتَه صفيةُ بنتُ الخَطّاب، أختُ عمر بن الخطّاب، وشهد قُدامةُ بدرًا وأحدًا والخَندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (3). ذكرُ مناقب حُذيفة بن اليَمَان ﵁ - وإنما هو حُذَيفة بن حُسَيل، وحُدَيفةُ صاحبُ سرِّ رسولِ الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ قدامہ بن مظعون بن حبیب جمی ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں (علانیہ) دعوت شروع کرنے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی تھی، ان کے نکاح میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہن صفیہ بنت خطاب تھیں، اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام معرکوں میں شریک رہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان العامِري، حدثنا عبد الله بن نُمير، حدثنا الأعمَشُ، عن أبي إسحاقَ، عن مُصعبِ بن سعْد، قال: أخذَ حذيفةَ وأباه المُشرِكون قبلَ بدرٍ، فأرادوا أن يقتُلُوهما، فأخَذُوا عليهما عهدَ اللهِ ومِيثاقَه أن لا يُعِينان عليهم، فحَلَفا لهم، فأرسَلُوهُما، فأَتَيا النبيَّ ﷺ فأخبَراهُ، فقالا: إنا قد حَلَفْنا لهم، فإن شئتَ قاتَلْنا معك، فقال: "نَفِي (1) ونستعينُ الله عليهم" (2).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ بدر کے معرکے سے پہلے مشرکین نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کو پکڑ لیا اور وہ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے، پھر انہوں نے ان سے اللہ کا پختہ عہد و میثاق لیا کہ وہ ان کے خلاف (نبی کریم ﷺ کی) مدد نہیں کریں گے، چنانچہ ان دونوں نے ان کے لیے حلف اٹھا لیا اور انہوں نے انہیں رہا کر دیا، پھر وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنا کر عرض کیا: ہم نے ان سے حلف اٹھایا ہے، اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے ساتھ مل کر (اس عہد کے باوجود) قتال کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم (عہد) پورا کریں گے «نَفِي» اور ان کے خلاف اللہ سے مدد چاہیں گے۔“