حدیث نمبر: 5725
أخبرني مَخلَد بن جعفر الباقَرْحِي، حدثنا محمد بن جَرير، قال: هذا القولُ خطأٌ وأظنُّ بصاحبِه إما أن يكون لم يَعرِف وقتَ الذي (3) قُتِل فيه عثمانُ، وإما أن يكون لم يُحسِن أن يَحسُب، وذلك أنه لا خِلافَ بين أهل السِّيَر كلهم أن عثمانَ قُتل في ذي الحِجّة من سنة خمسٍ وثلاثين من الهِجْرة، وقالت جماعةٌ منهم: قُتل لاثنتي عشرةَ ليلةً بَقِيَت منه، فإذا كان مَقتَلُه في ذي الحِجّة، وعاش حذيفةُ بعده أربعينَ ليلةً، فذلك في السنة التي بعدَها.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن جریر کہتے ہیں: یہ قول غلط ہے، اور میرا خیال ہے کہ اس قول کے قائل کو یا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت کا علم نہیں یا پھر اسے حساب لگانا نہیں آتا، کیونکہ تمام سیرت نگاروں کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ذوالحجہ سن 35 ہجری میں شہید ہوئے، اور ان میں سے ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو شہید ہوئے، پس اگر ان کی شہادت ذوالحجہ میں ہوئی اور سیدنا حذیفہ ان کے بعد چالیس دن زندہ رہے، تو یہ وفات لازماً اگلے سال (36 ہجری) میں بنتی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5725
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5725] [ترقيم الشركة 5671]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) لفظة "الذي" من (ز).
نوٹ / توضیح: (3) لفظ "الذی" نسخہ (ز) سے ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5725 سے ماخوذ ہے۔