المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
قَتْلُ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما رجب سن 36 ہجری میں شہید ہوئے
أخبرنا عبد الباقي بن قانِع ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن موسى بن حماد البَرْبَري، حَدَّثَنَا أبو السُّكَين زكريا بن يحيى الطائي، حَدَّثَنَا عمُّ أَبي (4) زَحْرُ بن حِصْن، قال: حدثني جدّي حُمَيد بن مُنهِبٍ، قال: حجَجْتُ في السنة التي قُتل فيها عثمانُ، فصادفْتُ طلحةَ والزبيرَ وعائشةَ بمكةَ، فلما سارُوا إلى البصرة سِرتُ معهم، وسار عليُّ بن أبي طالب إليهم حتَّى التَقَوا، وذلك يومُ الجَمَل، فاقتتلوا قتالًا شديدًا، وأَخذ بخِطَام الجَمَل يومئذ سبعون رجلًا، وذكر الحديثَ بطوله. وقال في آخره: وولّى الزُّبَيرُ مُنهزِمًا، فأدركَه ابن جُرمُوزٍ، وهو رجلٌ من بني تَميمٍ، فقتَلَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحمید بن منہیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اس سال حج کیا جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، میری ملاقات مکہ میں سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے ہوئی، جب وہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ چلا گیا، پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے مقابلے میں آئے یہاں تک کہ دونوں فریقوں کا آمنا سامنا ہوا اور وہ جنگِ جمل کا دن تھا، اس دن فریقین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اور اس روز ستر آدمیوں نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے) اونٹ کی نکیل تھامی، (راوی نے طویل حدیث ذکر کی اور) آخر میں کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ پیٹھ پھیر کر (میدان سے) روانہ ہوئے تو بنو تمیم کے ایک شخص ابن جرموز نے انہیں پا لیا اور انہیں شہید کر دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (4) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "عمر بن" ہو گیا ہے، اس کی تصحیح گزشتہ دو مقامات (رقم 5382 اور 5504) سے کی گئی ہے جہاں مصنف نے اسی سند سے دو دیگر خبریں روایت کی ہیں، اور یہ ایک معروف نسخہ ہے۔