حدیث نمبر: 5670
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: أخبرنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حَدَّثَنَا عبد الملك بن قُريب الأَصمَعي، قال: سمعتُ عبدَ الله بن عَون يقول: هؤلاء الخِيارُ قُتِلوا قَتْلًا، ثم بكى، فقال: أقبلَ الزُّبَيرُ على قاتلِه وقد ظَفِرَ به، فقال: أذكِّرُك الله، فكَفَّ عنه الزُّبَيرُ، حتَّى فعل ذلك مِرارًا، فلما غَدَرَ بالزبير وضربَه، قال الزُّبَيرُ: قاتَلَكَ اللهُ، تُذكِّرُ بالله ثم تَنْساهُ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5571 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن عون سے روایت ہے، وہ (ان صحابہ کے تذکرے پر) رو پڑے اور کہا: یہ وہ بہترین لوگ تھے جنہیں شہید کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنے قاتل کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ وہ ان پر قابو پا چکا تھا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں“، تو وہ (قاتل) ان سے رک گیا، انہوں نے کئی بار ایسا ہی کیا، لیکن جب اس نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے غداری کی اور ان پر وار کیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تجھے غارت کرے، تو اللہ کا واسطہ دیتا ہے اور پھر اسے خود ہی بھول جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5670
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5670] [ترقيم الشركة 5617] [ترقيم العلميه 5571]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) وأخرجه الطبراني في "معجمه الكبير" (241) عن أبي مسلم الكشي - وهو إبراهيم بن عبد الله - به.
حوالہ / مصدر: (3) اسے طبرانی نے "معجم کبیر" (241) میں ابو مسلم الکشی (ابراہیم بن عبد اللہ) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وذكره ابن سعد في "الطبقات" 3/ 103 - 104 مُصدِّرًا ذلك بقوله: قالوا.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 3/ 103 - 104 میں ذکر کیا ہے اور اس کا آغاز "قالوا" (انہوں نے کہا) کے الفاظ سے کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5670 سے ماخوذ ہے۔