کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا جسم سمندر میں سات دن رہنے کے باوجود دفن سے پہلے متغیر نہ ہوا
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا الحسن بن عيسى، حَدَّثَنَا ابن المبارَك، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن عليّ بن زيد وثابتٍ، عن أنس بن مالك: أنَّ أبا طلحةَ قرأ هذه الآية: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] فقال: استَنْفَرَنا اللهُ - أو أَمَرَنا اللهُ واستَنْفَرَنا - شُيوخًا وشبابًا، جَهِّزُوني، فقال بَنُوهُ: يَرحمُك اللهُ، إنك قد غَزوتَ على عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وأبي بكر وعُمر، ونحن نَغْزو عنك الآنَ، فَغَزَا البَحْرَ، فمات، فطَلَبُوا جزيرةً يَدفِنُونه، فلم يَقْدِرُوا عليه إلَّا بعدَ سبعةِ أيامٍ وما تَغَيَّرَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. والذي عندنا أنَّ أقاويلَ الأئمةِ التي قدَّمنا ذِكْرها أنه صلَّى عليه عُثمانُ بنُ عفان ﵁ لا يَدفَعُ أحدُ القولَين الآخَر، فلعلّه رُدَّ إلى المدينة ميتًا حتَّى صلَّى عليه عثمان (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5508 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. والذي عندنا أنَّ أقاويلَ الأئمةِ التي قدَّمنا ذِكْرها أنه صلَّى عليه عُثمانُ بنُ عفان ﵁ لا يَدفَعُ أحدُ القولَين الآخَر، فلعلّه رُدَّ إلى المدينة ميتًا حتَّى صلَّى عليه عثمان (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5508 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
علی بن زید اور ثابت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”تم نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔“ [سورة التوبة: 41] اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں نکلنے کا حکم دیا ہے، (یا فرمایا:) اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمیں بوڑھے اور جوان ہر حال میں نکلنے کو کہا ہے، لہٰذا تم میرا سامان تیار کرو۔“ ان کے بیٹوں نے کہا: ”اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ نے نبی کریم ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں جہاد کیا ہے، اب آپ کی طرف سے ہم جہاد کریں گے۔“ لیکن انہوں نے (بحرِ روم میں) بحری سفر کے ذریعے جہاد کیا اور اسی دوران وفات پا گئے۔ ساتھیوں نے انہیں دفن کرنے کے لیے کسی جزیرے کی تلاش کی، لیکن سات دن تک انہیں کوئی جگہ نہ ملی، اور ان سات دنوں میں ان کا جسم ذرا بھی متغیر (خراب) نہیں ہوا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور ہمارے نزدیک ائمہ کے وہ اقوال جنہیں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی تھی، ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انہیں وفات کے بعد مدینہ واپس لایا گیا ہو یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور ہمارے نزدیک ائمہ کے وہ اقوال جنہیں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی تھی، ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انہیں وفات کے بعد مدینہ واپس لایا گیا ہو یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا فَهد بن عَوْف، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة عن ثابت عن أنس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ آخَى بين أبي طَلْحة وبين أبي عُبيدة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ثابت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ابو طلحہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حَدَّثَنَا عبد الله بن علي الغَزّال، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، حَدَّثَنَا عبد الله بن المبارك، أخبرنا حَميدٌ الطَّويل، عن أنس بن مالك: أنَّ أبا طَلْحةَ كان يَرمي بين يَدَي رسولِ الله ﷺ، وكان النبيُّ ﷺ يَرفَع رأسَه من خَلْفِه لينظُرَ أين يقَعُ نَبْلُه، فيَتطاولُ أبو طَلْحةَ بصَدْرِهِ يَقِي به رسولَ الله ﷺ يقول: هكذا يا نبيَّ الله، جعَلَنِي اللهُ فِداكَ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عُبَادةَ بن الصامت ﵁ -
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عُبَادةَ بن الصامت ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
حمید طویل سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر تیر اندازی کر رہے تھے، اور نبی کریم ﷺ ان کے پیچھے سے اپنا سر مبارک اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں جا کر گرتا ہے۔ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ تان کر رسول اللہ ﷺ کے لیے ڈھال بن جاتے اور کہتے: ”اے اللہ کے نبی! ایسے رہیے، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، میری جان آپ کی جان پر فدا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔