المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَمَا تَغَيَّرَ أَبُو طَلْحَةَ قَبْلَ الدَّفْنِ إِلَى سَبْعَةِ أَيَّامٍ فِي الْبَحْرِ باب: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا جسم سمندر میں سات دن رہنے کے باوجود دفن سے پہلے متغیر نہ ہوا
حدیث نمبر: 5607
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حَدَّثَنَا عبد الله بن علي الغَزّال، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، حَدَّثَنَا عبد الله بن المبارك، أخبرنا حَميدٌ الطَّويل، عن أنس بن مالك: أنَّ أبا طَلْحةَ كان يَرمي بين يَدَي رسولِ الله ﷺ، وكان النبيُّ ﷺ يَرفَع رأسَه من خَلْفِه لينظُرَ أين يقَعُ نَبْلُه، فيَتطاولُ أبو طَلْحةَ بصَدْرِهِ يَقِي به رسولَ الله ﷺ يقول: هكذا يا نبيَّ الله، جعَلَنِي اللهُ فِداكَ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عُبَادةَ بن الصامت ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
حمید طویل سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر تیر اندازی کر رہے تھے، اور نبی کریم ﷺ ان کے پیچھے سے اپنا سر مبارک اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں جا کر گرتا ہے۔ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ تان کر رسول اللہ ﷺ کے لیے ڈھال بن جاتے اور کہتے: ”اے اللہ کے نبی! ایسے رہیے، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، میری جان آپ کی جان پر فدا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الله بن علي الغزال، فهو مجهول الحال، لكنه متابع. حميد الطويل: هو ابن أبي حميد.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عبد اللہ بن علی الغزال کے جو کہ مجهول الحال ہیں، مگر وہ یہاں متابعت میں ہیں۔ حمید الطویل سے مراد حمید بن ابی حمید ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (4582) من طريق الحسن بن عيسى، و (7181) من طريق حِبّان بن موسى كلاهما عن عبد الله بن المبارك، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (4582) پر حسن بن عیسیٰ کے طریق سے اور (7181) پر حبان بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبد اللہ بن المبارک سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 19 / (12024) و 20 / (13139) عن محمد بن إبراهيم بن أبي عدي، والنسائي (8226) من طريق مُعتمِر بن سليمان كلاهما عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (12024 اور 13139) میں محمد بن ابراھیم بن ابی عدی سے اور نسائی نے (8226) میں معتمر بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے، دونوں حمید الطویل سے نقل کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم بنحوه عند المصنّف برقم (2579) من طريق ثابت البُناني عن أنس.
حوالہ / مصدر: اس جیسی روایت مصنف کے ہاں نمبر (2579) پر ثابت البنانی عن حضرت انس کی سند سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عبد اللہ بن علی الغزال کے جو کہ مجهول الحال ہیں، مگر وہ یہاں متابعت میں ہیں۔ حمید الطویل سے مراد حمید بن ابی حمید ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (4582) من طريق الحسن بن عيسى، و (7181) من طريق حِبّان بن موسى كلاهما عن عبد الله بن المبارك، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (4582) پر حسن بن عیسیٰ کے طریق سے اور (7181) پر حبان بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبد اللہ بن المبارک سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 19 / (12024) و 20 / (13139) عن محمد بن إبراهيم بن أبي عدي، والنسائي (8226) من طريق مُعتمِر بن سليمان كلاهما عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (12024 اور 13139) میں محمد بن ابراھیم بن ابی عدی سے اور نسائی نے (8226) میں معتمر بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے، دونوں حمید الطویل سے نقل کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم بنحوه عند المصنّف برقم (2579) من طريق ثابت البُناني عن أنس.
حوالہ / مصدر: اس جیسی روایت مصنف کے ہاں نمبر (2579) پر ثابت البنانی عن حضرت انس کی سند سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5607 سے ماخوذ ہے۔