المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَمَا تَغَيَّرَ أَبُو طَلْحَةَ قَبْلَ الدَّفْنِ إِلَى سَبْعَةِ أَيَّامٍ فِي الْبَحْرِ باب: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا جسم سمندر میں سات دن رہنے کے باوجود دفن سے پہلے متغیر نہ ہوا
حدیث نمبر: 5606
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا فَهد بن عَوْف، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة عن ثابت عن أنس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ آخَى بين أبي طَلْحة وبين أبي عُبيدة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ثابت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ابو طلحہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وفهد بن عوف وإن كانوا تركوه كما قال الذهبي في "تلخيصه" عند الطريق المتقدمة من هذا الخبر برقم (5248) لم ينفرد به، بل حَمَله عن حماد بن سلمة جماعةٌ من الثقات.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: فہد بن عوف کو اگرچہ محدثین نے ترک کر دیا تھا (جیسا کہ امام ذہبی نے تلخیص میں نمبر 5248 کے تحت لکھا)، مگر وہ اس روایت میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حماد بن سلمہ سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: فہد بن عوف کو اگرچہ محدثین نے ترک کر دیا تھا (جیسا کہ امام ذہبی نے تلخیص میں نمبر 5248 کے تحت لکھا)، مگر وہ اس روایت میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حماد بن سلمہ سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5606 سے ماخوذ ہے۔