وأخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حَدَّثَنَا أبو يُونس، أخبرني إبراهيم بن المُنذِر، قال: مات أبو عَبْس عبدُ الرحمن بن جَبْر سنة أربع وثلاثين، وهو ابن سبعين سنة (3).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبس عبدالرحمٰن بن جبر رضی اللہ عنہ کی وفات چونتیس (34) ہجری میں ہوئی، اور اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبَهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، قال: كان أبو عَبْس بن جَبْر وخُنَيس بن حُذَافة السَّهْمي (1)، وشهد أبو عَبْسٍ بدرًا وأحُدًا والخَندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، وكان فيمن قَتَل كعبَ بن الأشْرَف (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبس بن جبر اور خنیس بن حذافہ سہمی (رضی اللہ عنہما کے درمیان رسول اللہ ﷺ نے مواخات کروائی تھی)، اور ابو عبس رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی تھی، اور ان لوگوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے (گستاخِ رسول) کعب بن اشرف کو قتل کیا تھا۔
قال ابن عُمر: فحدثني عبد الحَمِيد بن أبي عَبْس من ولد أبي عَبْس بن جَبْر، قال: مات أبو عَبْس سنة أربع وثلاثين، وهو ابن سبعين سنة، وصلَّى عليه عثمانُ، ونزل في قبره أبو بُردة بن نِيَارٍ وقَتَادة بن النُّعمان و محمد بن مَسْلَمة وسَلَمة بن سَلَامة بن وَقْشٍ (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبس بن جبر کی اولاد میں سے عبدالحمید بن ابی عبس نے مجھے بتایا کہ ابو عبس رضی اللہ عنہ کی وفات چونتیس (34) ہجری میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور ان کی قبر میں (انہیں اتارنے کے لیے) ابو بردہ بن نیار، قتادہ بن نعمان، محمد بن مسلمہ اور سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہم اترے تھے۔
حَدَّثَنَا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا أبو كُريب، حَدَّثَنَا زيد بن الحُبَاب، حَدَّثَنَا عبد الحميد بن أبي عَبْسٍ الأنصاري [أخبرني ميمون بن زيد بن أبي عَبْس] (4) أخبرني أبي: أنَّ أبا عَبْس كان يُصلِّي مع رسول الله ﷺ الصلَواتِ ثم يَرجِعُ إلى بني حارثة، فخرج ذات ليلةٍ مُظلِمةٍ مَطِيرةٍ، فنُوِّر له في عَصَاهُ حتَّى دَخَلَ دارَ بني حارثة (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5495 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5495 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
میمون بن زید بن ابی عبس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو عبس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور پھر (اپنے محلے) بنو حارثہ کی طرف لوٹ جاتے تھے۔ ایک اندھیری اور بارش والی رات کو وہ نکلے تو ان کی لاٹھی میں ان کے لیے روشنی کر دی گئی، یہاں تک کہ وہ بنو حارثہ کے محلے میں پہنچ گئے۔