المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَفَاةُ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي عَبْسٍ باب: سیدنا عبد اللہ ابو عبس رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5587
قال ابن عُمر: فحدثني عبد الحَمِيد بن أبي عَبْس من ولد أبي عَبْس بن جَبْر، قال: مات أبو عَبْس سنة أربع وثلاثين، وهو ابن سبعين سنة، وصلَّى عليه عثمانُ، ونزل في قبره أبو بُردة بن نِيَارٍ وقَتَادة بن النُّعمان و محمد بن مَسْلَمة وسَلَمة بن سَلَامة بن وَقْشٍ (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبس بن جبر کی اولاد میں سے عبدالحمید بن ابی عبس نے مجھے بتایا کہ ابو عبس رضی اللہ عنہ کی وفات چونتیس (34) ہجری میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور ان کی قبر میں (انہیں اتارنے کے لیے) ابو بردہ بن نیار، قتادہ بن نعمان، محمد بن مسلمہ اور سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہم اترے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 416 عن محمد بن عمر الواقدي قال: حدثني عبد المجيد بن أبي عبس من ولد أبي عَبْس … فذكره. هكذا سمى شيخه عبد المجيد بدل عبد الحميد، وهذا هو المشهور في اسمه كما تقدم بيانه برقم (5180).
فنی نکتہ / علّت: یہ روایت "طبقات ابن سعد" (3/ 416) میں محمد بن عمر الواقدی کے واسطے سے ہے، جہاں انہوں نے اپنے شیخ کا نام "عبد الحمید" کے بجائے "عبد المجید بن ابی عبس" ذکر کیا ہے، اور یہی نام زیادہ مشہور ہے جیسا کہ پہلے رقم (5180) پر بیان ہو چکا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ روایت "طبقات ابن سعد" (3/ 416) میں محمد بن عمر الواقدی کے واسطے سے ہے، جہاں انہوں نے اپنے شیخ کا نام "عبد الحمید" کے بجائے "عبد المجید بن ابی عبس" ذکر کیا ہے، اور یہی نام زیادہ مشہور ہے جیسا کہ پہلے رقم (5180) پر بیان ہو چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5587 سے ماخوذ ہے۔