کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن سننا
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العبدي، أخبرنا جعفر بن عون، أخبرنا المسعودي، عن جعفر بن عمرو ابن حُرَيث، عن أبيه، قال: قال النبي ﷺ لعبد الله بن مسعود: "اقرأ" قال: أقرأُ وعليك أُنزِلَ؟! قال: "إني أُحِبُّ أن أسمعه من غيري" قال: فافتتح سورة النساء، حتى بلَغَ: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41]، فاستَعْبَر رسولُ الله ﷺ، وكَفَّ عبدُ الله. فقال له رسول الله ﷺ: "تَكلَّمْ" فَحَمِدَ الله في أول كلامِه، وأثنَى على الله، وصلَّى على النبي ﷺ، وشَهِد شهادةَ الحَقِّ، وقال: رضينا بالله ربًّا، وبالإسلام دِينًا، ورضيتُ لكم ما رضي الله ورسولُه، فقال رسول الله ﷺ: "رضِيتُ لكم ما رضي لكم ابن أمِّ عَبْدٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5394 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”قرآن پڑھ کر سناؤ“، انہوں نے عرض کی: میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ میں پسند کرتا ہوں کہ اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں“، چنانچہ انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب اس آیت ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ زار و قطار رونے لگے اور عبد اللہ تلاوت سے رک گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کچھ گفتگو کرو“، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا اور حق کی گواہی دیتے ہوئے کہا: «رَضِينَا بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ”ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں، اور میں تمہارے لیے اسی بات پر راضی ہوں جس پر اللہ اور اس کے رسول راضی ہوئے“، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے لیے اسی بات پر راضی ہوں جس پر ابنِ امِ عبد تمہارے لیے راضی ہوئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5480
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، المسعُودي» [ترقيم الرساله 5480] [ترقيم الشركة 5435] [ترقيم العلميه 5394]
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عَمّار، حدثنا الفضل بن موسى، عن الأعمش، قال: كان شَقيقٌ يَذكُر صحابة النبيِّ ﷺ، فلم يذكر ابن مسعودٍ، فقلت له: لا أراك تذكرُ ابن مسعود؟! قال: ذاك رجلٌ لا أُفضِّلُ عليه أحدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5395 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
اعمش بیان کرتے ہیں کہ شقیق (ابو وائل) نبی کریم ﷺ کے صحابہ کا تذکرہ کر رہے تھے مگر انہوں نے ابنِ مسعود کا ذکر نہیں کیا، میں نے ان سے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ابنِ مسعود کا تذکرہ نہیں کر رہے؟! انہوں نے جواب دیا: ”وہ ایسی شخصیت ہیں جن پر میں کسی کو فضیلت نہیں دیتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5481
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،شقيق: هو ابن سَلَمة أبو وائل، والأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو عمار: هو الحسين بن حُريث، ومحمد بن إسحاق: هو ابن خُزيمة.» [ترقيم الرساله 5481] [ترقيم الشركة 5436] [ترقيم العلميه 5395]
حدثنا ميمون بن إسحاق الهاشمي مولاهم، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، قال: كان عبدُ الله يُشبَّه بالنبيِّ ﷺ، في هَدْيِه ودَلِّه وسَمْتِه، قال إبراهيم: وكان علقمة يُشبَّه بعبدِ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی عادات و اطوار، طور طریقوں اور چال ڈھال میں نبی کریم ﷺ کے مشابہ تھے، اور ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ علقمہ خود عبد اللہ بن مسعود کے مشابہ تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5482
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو ابن عمر العُطاردي - وقد توبع. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي. وعلقمة: هو ابن قيس النَّخَعي، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 5482] [ترقيم الشركة 5437]