المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ باب: جو شخص قرآن کو تازہ تازہ نازل ہونے کی طرح پڑھنا چاہے وہ ابنِ اُمِّ عبد رضی اللہ عنہ کی قراءت پر پڑھے
حدیث نمبر: 5476
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد القرشي، بالكوفة، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا مُصعب بن المِقدام، حدَّثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقمة، عن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أحبَّ أن يقرأ القرآنَ غَضًّا كما أُنزِل، فلْيَقرأه على قراءةِ ابن أمِّ عبدٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5390 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ وہ قرآن ویسے ہی تروتازہ پڑھے جیسے وہ نازل ہوا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابنِ امِ عبد (عبد اللہ بن مسعود) کی قرات کے مطابق پڑھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وقد تقدَّم برقم (2930) من طريق القاسم بن بشر عن مصعب بن المقدام.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ پہلے نمبر (2930) پر قاسم بن بشر کے طریق سے (عن مصعب بن المقدام) گزر چکی ہے۔
وتقدَّم كذلك ضمن حديث مطوَّل برقم (2929) من طريق أبي معاوية عن الأعمش.
تفصیلِ روایت: اور اسی طرح یہ حدیث نمبر (2929) پر ایک تفصیلی حدیث کے ضمن میں ابو معاویہ (عن الاعمش) کے طریق سے بھی گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ پہلے نمبر (2930) پر قاسم بن بشر کے طریق سے (عن مصعب بن المقدام) گزر چکی ہے۔
وتقدَّم كذلك ضمن حديث مطوَّل برقم (2929) من طريق أبي معاوية عن الأعمش.
تفصیلِ روایت: اور اسی طرح یہ حدیث نمبر (2929) پر ایک تفصیلی حدیث کے ضمن میں ابو معاویہ (عن الاعمش) کے طریق سے بھی گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5476 سے ماخوذ ہے۔