وحدثنا (2) سعيد بن عبد العزيز، عن مَكحُول، قال: حدثني مَن رأى بلالًا رجلًا آدَمَ شديدَ الأُدْمةِ، نَحيفًا طوالًا أحْنَى، له شعرٌ كثيرٌ، خفيفُ العارِضَين، به شَمَطٌ كثيرٌ ولا يُغيِّر، وشهد بلال بدرًا، وأحدًا، والخندقَ، والمشاهد كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، آخى رسولُ الله ﷺ بينَه وبين عُبيدة بن الحارث بن عبد المُطّلب (3).
حافظ طلحہ بابر
مکحول سے روایت ہے کہ جس نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا اس نے بتایا کہ وہ گہرے سانولے رنگ کے، دبلے پتلے، دراز قد اور قدرے آگے کو جھکے ہوئے تھے، ان کے بال گھنے تھے، رخساروں پر بال ہلکے تھے، بڑھاپے کی وجہ سے بال کافی سفید تھے اور وہ انہیں رنگتے نہیں تھے، بلال رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک رہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور عبیدہ بن حارث بن عبد المطلب کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا علي بن عبد الله، عن حُسين الجُعْفي (4) قال: بلالُ بن رباح أبو عَمرو، وأمّ بلالٍ حَمامةُ، بلغ سبعًا وستين سنةً، ودُفن عند باب الصَّغير في مقبرة دمشق.
حافظ طلحہ بابر
حسین جعفی کہتے ہیں کہ بلال بن رباح کی کنیت ابو عمرو تھی، ان کی والدہ کا نام حمامہ تھا، ان کی عمر سڑسٹھ سال ہوئی اور وہ دمشق کے مقبرے میں باب الصغیر کے پاس دفن ہوئے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونُس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق: أنَّ أبا بكر اشترى بلالًا من أُميّة بن خَلَف، وأنه شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ، وكان أسودَ مُولَّدًا، اشتراه أبو بكر من أُميّة بن خَلَف، أعطاهُ أبو بكر غلامًا وأخذ بدلَه بلالًا، وكانت أمُّه اسمُها حَمَامة، وكانا أسلما جميعًا، وكان يُكنى أبا عبد الله، توفي بدمشق سنة عشرين، ويقال: ثمانَ عشرةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلال کو امیہ بن خلف سے خریدا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، وہ سیاہ فام تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف کو ایک غلام دے کر اس کے بدلے بلال کو لیا تھا، ان کی والدہ کا نام حمامہ تھا اور وہ دونوں ہی اسلام لائے تھے، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی، ان کی وفات سنہ 20 ہجری میں دمشق میں ہوئی اور ایک قول کے مطابق سنہ 18 ہجری میں ہوئی۔
أخبرنا الحسن بن محمد الإسْفَرايِني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن المَدِيني، حدثنا محمد بن بِشر، سمعتُ إسماعيل بن أبي خالد يَذكُر عن قيس، عن (2) مُدرِك بن عَوف الأحمَسي، قال: مررتُ ببلالٍ وهو في المسجدِ، فقلت: يا أبا عبد الله، ما يُجلِسُك؟ فقال: أَنتظِرُ طُلوعَ الشمسِ (3).
حافظ طلحہ بابر
مدرک بن عوف احمسی کہتے ہیں کہ میرا گزر بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ مسجد میں تھے، میں نے پوچھا: ”اے ابو عبداللہ! آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں سورج طلوع ہونے کا انتظار کر رہا ہوں۔“
أخبرني أبو أحمد الحافظ، أخبرنا محمد بن سليمان، سمعت محمد بن إسماعيل يقول: بلال بن رَبَاح أبو عبد الكريم، ويقال: أبو عبد الله، ويقال: أبو عَمرو، مولى أبي بكر (4).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بلال بن رباح کی کنیت ابو عبدالکریم تھی، ایک قول کے مطابق ابو عبداللہ اور ایک قول کے مطابق ابو عمرو تھی، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
أخبرنا أبو إسحاق، أخبرنا الثَّقفي، حدثنا عُبيد الله بن سعيد، حدثنا يعقوب، عن أبيه، عن ابن إسحاق، قال بلال بن رَباح أمُّه حَمَامة، وأختُه غُفْرة، الذي يقال: عمر بن عبد الله المدني مولى غُفْرة (5).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بلال بن رباح کی والدہ کا نام حمامہ اور ان کی بہن کا نام غفرہ تھا، جن کی نسبت سے عمر بن عبداللہ مدنی کو «مولٰی غفرہ» کہا جاتا ہے۔