حدیث نمبر: 5314
وحدثنا (2) سعيد بن عبد العزيز، عن مَكحُول، قال: حدثني مَن رأى بلالًا رجلًا آدَمَ شديدَ الأُدْمةِ، نَحيفًا طوالًا أحْنَى، له شعرٌ كثيرٌ، خفيفُ العارِضَين، به شَمَطٌ كثيرٌ ولا يُغيِّر، وشهد بلال بدرًا، وأحدًا، والخندقَ، والمشاهد كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، آخى رسولُ الله ﷺ بينَه وبين عُبيدة بن الحارث بن عبد المُطّلب (3).
حافظ طلحہ بابر

مکحول سے روایت ہے کہ جس نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا اس نے بتایا کہ وہ گہرے سانولے رنگ کے، دبلے پتلے، دراز قد اور قدرے آگے کو جھکے ہوئے تھے، ان کے بال گھنے تھے، رخساروں پر بال ہلکے تھے، بڑھاپے کی وجہ سے بال کافی سفید تھے اور وہ انہیں رنگتے نہیں تھے، بلال رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک رہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور عبیدہ بن حارث بن عبد المطلب کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5314
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5314] [ترقيم الشركة 5267]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) الضمير يعود على الواقدي.
نوٹ / توضیح: (2) یہ ضمیر واقدی کی طرف لوٹ رہی ہے۔
(3) وهو في "الطبقات" لابن سعد 3/ 220 و 9/ 390 عن محمد بن عمر الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: (3) یہ ابن سعد کی "الطبقات" (3/ 220 اور 9/ 390) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
وقوله: أحْنَى، أي: في ظهره احديدابٌ.
نوٹ / توضیح: "اَحنٰی": یعنی ان کی کمر میں جھکاؤ (کبڑا پن) تھا۔
والأُدْمة: السُّمْرة.
نوٹ / توضیح: "اُدْمَۃ": گندمی رنگت (سانولا پن)۔
والعارضان جانبا الوجه، وخفيف العارضين معناه: خفيف شعر العارضين.
نوٹ / توضیح: "العارضان": چہرے کے دونوں کنارے (رخسار)۔ "خفیف العارضین" کا مطلب ہے: رخساروں کے بال (داڑھی کے سائیڈ والے بال) ہلکے تھے۔
والشَّمَط: بياض شعر الرأس يخالط سَوادَه.
نوٹ / توضیح: "الشَّمَط": سر کے بالوں کی سفیدی جو سیاہی کے ساتھ ملی ہوئی ہو (ادھیڑ عمری کے بال)۔
ولا يُغيِّر، أي: لا يغيَّر شَيبَه.
نوٹ / توضیح: "لا یُغیِّر": یعنی وہ اپنے سفید بالوں کو (خضاب وغیرہ سے) تبدیل نہیں کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5314 سے ماخوذ ہے۔