المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَخُو بِلَالٍ لَهُ رِوَايَةٌ باب: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بھائی کی روایت کا بیان
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبَهاني، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عارِمُ بن الفَضْل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عمرو بن ميمون حدثني [أبي] (1): أنَّ أخًا لبلالٍ كان يَنتمي إلى العربِ، ويَزعُم أنه منهم، فخطبَ امرأةً من العرب، فقالوا: إن حَضَرَ بلالُ زَوَّجناكَ، قال: فحَضَرَ بلالٌ، فقال: أنا بلالُ بن رَباحٍ، وهذا أخي، وهو امرؤٌ سَوءٍ، سيِّيءُ الخُلُقِ والدَّين، فإن شئتُم أن تُزوِّجُوه فزَوِّجُوه، وإن شئتُم أن تَدَعُوا فَدَعُوا، فقالوا: مَن تَكُن أخاهُ نُزوِّجه، فزوَّجُوه (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأخو بلالٍ هذا له روايةٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5237 - صحيحعمرو بن میمون اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کے ایک بھائی خود کو عرب ظاہر کرتے اور ان میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، انہوں نے ایک عرب عورت کو نکاح کا پیغام دیا تو ان لوگوں نے کہا: ”اگر بلال آ جائیں تو ہم آپ کا نکاح کر دیں گے“، راوی کہتے ہیں: تو بلال تشریف لائے اور فرمایا: ”میں بلال بن رباح ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، یہ اخلاق اور دین کے معاملے میں ایک برا آدمی ہے، اب اگر تم چاہو تو اس کا نکاح کر دو اور اگر چاہو تو رہنے دو“، ان لوگوں نے کہا: ”جس کے آپ بھائی ہوں ہم اس کا نکاح ضرور کریں گے“، چنانچہ انہوں نے نکاح کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بلال کے اس بھائی سے روایت بھی منقول ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (1) لفظ "أبي" قلمی نسخوں سے ساقط ہو گیا تھا۔ نسخہ (ز) میں لفظ "حدثنی" کے اوپر نشان (ضبہ) لگا تھا، جبکہ (ص)، (م) اور ذہبی کی "تلخیص المستدرک" میں اس کی جگہ خالی چھوڑی گئی تھی۔
حوالہ / مصدر: ہم نے اسے بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (7/ 137) سے حاصل کیا ہے، جہاں انہوں نے یہ خبر ابو عبد اللہ الحاکم (مصنف) سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔
نوٹ / توضیح: اور یہ "میمون": ابن مہران الرّقی ہیں۔
(2) رجاله ثقات، لكنه مرسل ميمون بن مهران الرَّقِّي والد عمرو لم يُدرك بلال بن رباح.
درجۂ حدیث: (2) اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: میمون بن مہران الرقی (جو عمرو کے والد ہیں) نے بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 137، ومن طريقه ابن عساكر 16/ 22 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (7/ 137) میں، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (16/ 22) نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 218، ومن طريقه ابن عساكر 16/ 22 عن عارم بن الفضل، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے اپنی "الطبقات" (3/ 218) میں، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (16/ 22) نے عارم بن الفضل سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وعارِمٌ لقب محمد بن الفضل السَّدُوسي أبي النعمان.
نوٹ / توضیح: "عارم": یہ محمد بن الفضل السّدوسی (ابو النعمان) کا لقب ہے۔