أخبرني أبو الحُسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثني أبو يُونس، حدثنا إبراهيم بن المنذر، قال: أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب اسمُه المُغيرة، توفي سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب (1).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر بیان کرتے ہیں کہ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کا نام مغیرہ ہے، ان کی وفات سنہ 20 ہجری میں ہوئی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، حدثني أبي، أخبرنا شُعبة، عن سِماك بن حرب، قال: كنا مع مُدرِك بن المُهلَّب بسِجِستانَ في سُرادِقِه، فسمعتُ شيخًا يُحدِّث عن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطَّلب، عن النبي ﷺ قال: "إنَّ الله لا يُقدِّسُ أمةً لا يأخُذُ الضعيفُ حقَّه من القويِّ وهو غيرُ مُتَعْتَعٍ" (2). فإذا الشيخُ الذي لم يُسمِّه عثمان بن جَبَلة عن شعبة عن سماك، قد سمّاهُ عُندَرٌ، غيرَ أنه لم يَذكُر أبا سفيان في الإسناد.
حافظ طلحہ بابر
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں کہ ہم سجستان میں مدرک بن مہلب کے خیمے میں تھے، وہاں میں نے ایک بزرگ کو سیدنا ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ اس قوم کو پاکیزہ (یا مقدس) قرار نہیں دیتا جس میں کمزور شخص کسی لکنت اور خوف کے بغیر طاقتور سے اپنا حق نہ لے سکے۔“ پس وہ بزرگ جن کا عثمان بن جبلہ نے اپنی روایت میں نام نہیں لیا تھا، غندر نے ان کا نام (عبداللہ بن ابوسفیان) صراحت سے ذکر کیا ہے، مگر انہوں نے اس اسناد میں ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا۔
أخبرَناهُ محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو موسى وبُندارٌ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سِماك، عن عبد الله بن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطَّلب، قال: كان لرجلٍ على رسول الله ﷺ تَمرٌ، فأتاه يَتقاضاه، فاستقرضَ النبيُّ ﷺ من خَولةَ بنتِ حَكيمٍ تمرًا، فأعطاهُ إياه، وقال: "أمَا إنّه قد كان عِندي تمرٌ، لكنه قد كان عَثَريًا"، ثم قال: "كذلك يفعلُ عِبادُ الله المؤمنون، إنَّ الله لا يَتَرحَّمُ على أمّةٍ لا يأخذُ الضعيفُ منهم حقَّه غيرَ مُتَعتَعٍ" (3). ذكرُ مناقب محمد بن عِيَاض الزُّهْري ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کا رسول اللہ ﷺ پر کھجوروں کا قرض تھا، وہ آپ ﷺ کے پاس اپنا حق مانگنے آیا تو نبی کریم ﷺ نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کھجوریں ادھار لیں اور اسے عطا فرما دیں، اور فرمایا: ”میرے پاس اپنی کھجوریں موجود تھیں لیکن وہ بارش کے پانی پر پلنے والی (خود رو) تھیں“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے مومن بندے اسی طرح کرتے ہیں، بیشک اللہ اس قوم پر رحم نہیں فرماتا جس میں کمزور شخص کسی لکنت اور خوف کے بغیر اپنا حق حاصل نہ کر سکے“۔