حدیث نمبر: 5199
حدثني أبو عبد الله بن أبي ذُهْل، حدثنا أحمد بن محمد بن ياسين، حدثنا محمد بن حبيب السَّمّاك، حدثنا عبد الله بن زياد الثَّوباني - من ولد ثَوْبان - عن ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن لَبِيب مولى محمد بن عِيَاض الزُّهْري، عن محمد بن عِيَاض، قال: رُفِعتُ إلى رسول الله ﷺ في صِغَري وعليَّ خِرقةٌ وقد كُشِفَت عَورتي، فقال: "غَطُّوا حُرْمةَ عَورتِه، فإنَّ حُرمةَ عورة الصغيرِ كَحُرمةِ عَورةِ الكبير، ولا يَنظُرُ اللهُ إلى كاشفِ عورةٍ" (1). ذكرُ عُتبة بن مسعود أخي عبد الله بن مسعود ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5119 - إسناده مظلم ومتنه منكر
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عیاض زہری بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، اس وقت میرے جسم پر ایک چادر تھی جو ہٹ گئی اور میرا ستر ظاہر ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «غَطُّوا حُرْمَةَ عَوْرَتِهِ، فَإِنَّ حُرْمَةَ عَوْرَةِ الصَّغِيرِ كَحُرْمَةِ عَوْرَةِ الْكَبِيرِ، وَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى كَاشِفِ عَوْرَةٍ» ”اس کے ستر کی حرمت کو ڈھانپو، کیونکہ چھوٹے بچے کے ستر کی حرمت بھی وہی ہے جو بڑے کے ستر کی ہے، اور اللہ ایسے شخص کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھتا جو ستر کھولنے والا ہو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5199
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مُظلِم ومتنُه منكر
تخریج حدیث «إسناده مُظلِم ومتنُه منكر، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقال ابن حجر في "الإصابة" 6/ 30: في السند مع ابن لَهِيعة غيرُه من الضعفاء. قلنا: ابن لَهِيعة هو عبد الله، ولبيبٌ مولى محمد بن عياض مجهول، ومحمد بن حبيب السَّمّاك وعبد الله بن زياد الثَّوباني لم نقف لهما على ترجمة. ...» [ترقيم الرساله 5199] [ترقيم الشركة 5154] [ترقيم العلميه 5119]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده مُظلِم ومتنُه منكر، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقال ابن حجر في "الإصابة" 6/ 30: في السند مع ابن لَهِيعة غيرُه من الضعفاء. قلنا: ابن لَهِيعة هو عبد الله، ولبيبٌ مولى محمد بن عياض مجهول، ومحمد بن حبيب السَّمّاك وعبد الله بن زياد الثَّوباني لم نقف لهما على ترجمة. وفي الرواة في هذه الطبقة عمرو بن زياد الثوباني، فلعله تحرَّف اسمُه إلى عبد الله بن زياد، وعمرو بن زياد هذا كذَّاب يضعُ الحديث، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "اندھیر" (انتہائی ضعیف) اور متن "منکر" ہے، جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا ہے۔ ابن حجر نے "الاصابہ" [6/ 30] میں فرمایا: سند میں ابن لہیعہ کے ساتھ دیگر ضعفاء بھی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: ابن لہیعہ (عبداللہ) ضعیف ہیں۔ "لبیب مولیٰ محمد بن عیاض" مجہول راوی ہیں۔ "محمد بن حبیب السماک" اور "عبداللہ بن زیاد الثوبانی" کے حالات ہمیں نہیں ملے۔ اس طبقے کے راویوں میں "عمرو بن زیاد الثوبانی" موجود ہے، شاید نام تحریف ہو کر "عبداللہ بن زیاد" بن گیا ہو، اور یہ "عمرو بن زیاد" کذاب ہے جو حدیث گھڑتا تھا، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5199 سے ماخوذ ہے۔