حدیث نمبر: 5197
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، حدثني أبي، أخبرنا شُعبة، عن سِماك بن حرب، قال: كنا مع مُدرِك بن المُهلَّب بسِجِستانَ في سُرادِقِه، فسمعتُ شيخًا يُحدِّث عن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطَّلب، عن النبي ﷺ قال: "إنَّ الله لا يُقدِّسُ أمةً لا يأخُذُ الضعيفُ حقَّه من القويِّ وهو غيرُ مُتَعْتَعٍ" (2). فإذا الشيخُ الذي لم يُسمِّه عثمان بن جَبَلة عن شعبة عن سماك، قد سمّاهُ عُندَرٌ، غيرَ أنه لم يَذكُر أبا سفيان في الإسناد.
حافظ طلحہ بابر

سماک بن حرب بیان کرتے ہیں کہ ہم سجستان میں مدرک بن مہلب کے خیمے میں تھے، وہاں میں نے ایک بزرگ کو سیدنا ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ اس قوم کو پاکیزہ (یا مقدس) قرار نہیں دیتا جس میں کمزور شخص کسی لکنت اور خوف کے بغیر طاقتور سے اپنا حق نہ لے سکے۔“ پس وہ بزرگ جن کا عثمان بن جبلہ نے اپنی روایت میں نام نہیں لیا تھا، غندر نے ان کا نام (عبداللہ بن ابوسفیان) صراحت سے ذکر کیا ہے، مگر انہوں نے اس اسناد میں ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5197
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم لولا هذا الشيخ المبهم الذي لم يُسَمَّ.» [ترقيم الرساله 5197] [ترقيم الشركة 5152]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم لولا هذا الشيخ المبهم الذي لم يُسَمَّ.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور اس سند کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں"، سوائے اس مبہم شیخ کے جس کا نام نہیں لیا گیا۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (5194) من طريق أبي المُوجِّه عن عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وهو المعروف بعَبْدان.
نوٹ / توضیح: یہ مصنف کے ہاں نمبر (5194) پر ابو الموجہ عن عبداللہ بن عثمان بن جبلہ (جو عبدان کے نام سے معروف ہیں) کے طریق سے گزر چکا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 10/ 93 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" [10/ 93] میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن قانع في "المعجم الصحابة" 3/ 88 عن معاذ بن المثنَّى، والخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 5/ 306 من طريق يحيى بن محمد بن صاعد، كلاهما عن أحمد بن سيّار، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن قانع نے "معجم الصحابۃ" [3/ 88] میں معاذ بن المثنیٰ سے، اور خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" [5/ 306] میں یحییٰ بن محمد بن صاعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں احمد بن سیار سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
والسُّرادِقُ: هو كلُّ ما أحاط بشيءٍ، نحو الخِباء.
نوٹ / توضیح: "السُّرادِقُ": ہر وہ چیز جو کسی چیز کا احاطہ کر لے، جیسے خیمہ یا شامیا نہ۔
وقوله: "إنَّ الله لا يُقدِّس أُمَّةٌ" معناه: لا يُطهِّرها ولا يُزكِّيها.
نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کے فرمان: "إنَّ الله لا يُقدِّس أُمَّةٌ" کا مطلب ہے: اللہ اس قوم کو پاک نہیں کرتا اور نہ ان کا تزکیہ کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5197 سے ماخوذ ہے۔