حدیث نمبر: 5198
أخبرَناهُ محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو موسى وبُندارٌ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سِماك، عن عبد الله بن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطَّلب، قال: كان لرجلٍ على رسول الله ﷺ تَمرٌ، فأتاه يَتقاضاه، فاستقرضَ النبيُّ ﷺ من خَولةَ بنتِ حَكيمٍ تمرًا، فأعطاهُ إياه، وقال: "أمَا إنّه قد كان عِندي تمرٌ، لكنه قد كان عَثَريًا"، ثم قال: "كذلك يفعلُ عِبادُ الله المؤمنون، إنَّ الله لا يَتَرحَّمُ على أمّةٍ لا يأخذُ الضعيفُ منهم حقَّه غيرَ مُتَعتَعٍ" (3). ذكرُ مناقب محمد بن عِيَاض الزُّهْري ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کا رسول اللہ ﷺ پر کھجوروں کا قرض تھا، وہ آپ ﷺ کے پاس اپنا حق مانگنے آیا تو نبی کریم ﷺ نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کھجوریں ادھار لیں اور اسے عطا فرما دیں، اور فرمایا: ”میرے پاس اپنی کھجوریں موجود تھیں لیکن وہ بارش کے پانی پر پلنے والی (خود رو) تھیں“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے مومن بندے اسی طرح کرتے ہیں، بیشک اللہ اس قوم پر رحم نہیں فرماتا جس میں کمزور شخص کسی لکنت اور خوف کے بغیر اپنا حق حاصل نہ کر سکے“۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5198
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وقد تقدَّم عند المصنف برقم (5193) عن أبي زكريا العَنْري وأبي الحسن بن موسى الفقيه، كلاهما عن إبراهيم بن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 5198] [ترقيم الشركة 5153]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وقد تقدَّم عند المصنف برقم (5193) عن أبي زكريا العَنْري وأبي الحسن بن موسى الفقيه، كلاهما عن إبراهيم بن أبي طالب.
درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور اس سند کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں"۔ یہ مصنف کے ہاں نمبر (5193) پر ابو زکریا العنری اور ابو الحسن بن موسیٰ الفقیہ سے، اور وہ دونوں ابراہیم بن ابی طالب سے روایت کرتے ہوئے گزر چکا ہے۔
وأخرجه البيهقي 10/ 93 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے [10/ 93] میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5198 سے ماخوذ ہے۔