کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ اس امت پر رحم نہیں فرماتا جو اپنے کمزور کا حق طاقتور سے نہ دلوا سکے
حدثنا أبو زكريا العَنْبري وأبو الحسن بن موسى الفقيه، قالا: حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المُثنَّى ومحمد بن بشار، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، عن أبيه، قال: كان لرجل على النبي ﷺ تمرٌ، فأتاه يَتقاضاهُ، فاستَقرَضَ النبيُّ ﷺ من خولةَ بنت حَكِيم تمرًا فأعطاه إياه، وقال: "أمَا إنّه كان عندي تمرٌ، ولكنه كان عَثَريًّا". ثم قال: "كذلك يَفعلُ عِبادُ الله المؤمنون (4)، وإِنَّ الله لا يَترحَّمُ على أُمَّةٍ لا يأخذُ الضعيفُ منكم حَقَّه من القَويّ غيرَ مُتَعْتَعٍ" (1). لم يُسنِدْ أبو سفيان عن النبي ﷺ غيرَ هذا الحديثِ الواحدِ، ولم يُقِمْ إسنادَه عن شعبةَ غيرُ عُندَر (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کھجوروں کا تقاضا کیا جو اس کا آپ ﷺ پر قرض تھا، تو نبی کریم ﷺ نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کچھ کھجوریں بطور قرض لے کر اسے ادا فرمائیں اور ارشاد فرمایا: ”میرے پاس کھجوریں موجود تھیں لیکن وہ بارش کے پانی پر پلنے والی (خود رو) تھیں“، پھر فرمایا: ”اللہ کے مومن بندے اسی طرح کرتے ہیں، اور بیشک اللہ اس قوم پر رحم نہیں فرماتا جس میں کمزور شخص کسی لکنت (خوف و جھجھک) کے بغیر طاقتور سے اپنا حق نہ لے سکے۔“ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے صرف یہی ایک حدیث روایت کی ہے، اور شعبہ سے اس کی سند کو غندر کے علاوہ کسی نے (اس طرح مکمل طور پر) محفوظ نہیں کیا۔
فقد أخبرَناه أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرني أبي، عن شُعْبة، عن سِماك، قال: كنا مع مُدرِك بن المُهلَّب بسِجِستانَ، فسمعتُ شيخًا يُحدِّث عن أبي سفيان بن الحارث، عن النبي ﷺ، فذكره (1)، ولم يُسَمِّ (2) عبدَ الله بن أبي سفيان.
حافظ طلحہ بابر
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں کہ ہم سجستان میں مدرک بن مہلب کے ساتھ تھے، وہاں میں نے ایک بزرگ کو سنا جو سیدنا ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کر رہے تھے (جیسا کہ اوپر مذکور ہوا)، لیکن ان راوی نے اس سند میں عبداللہ بن ابوسفیان کا نام ذکر نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله بن الزُّبَير، قال: وممَّن صَحِبَ رسولَ الله ﷺ من ولد الحارث بن عبد المُطّلب أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وقال له رسول الله ﷺ: "مِن خَيرِ أهلي" أو "إنه خيرُ أهلي". وقال رسول الله ﷺ: "إنه سيّدُ فِتْيان أهلِ الجنة". وصَبَرَ مع رسولِ الله ﷺ يوم حُنين، فأبصَرَه رسولُ الله ﷺ في عَمَايةِ الصبح، فقال: "مَن هذا؟ " قال: ابن أمِّك يا رسولَ الله. حَلَقَه الحلَّاق فقَطَع ثُؤلولًا من رأسِه فلم يَرْقأْ (3) عنه الدمُ حتى ماتَ، وذلك في سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب ﵁. وكان تَلقَّى رسولَ الله ﷺ ببعضِ الطريق ورسولُ الله ﷺ خارجٌ إلى مكةَ للفَتْح، فأسلمَ قبلَ الفَتح (4).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں سے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی ان میں ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا: ”یہ میرے گھر والوں میں سب سے بہتر ہے“ یا فرمایا: ”بیشک وہ میرے گھر والوں میں سے بہترین ہے“، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”بیشک وہ اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“، وہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ثابت قدمی سے) ڈٹے رہے، تو صبح کے اندھیرے میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا اور دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی ماں کا بیٹا (یعنی آپ کا بھائی) ہوں، ایک حجام نے ان کے سر کی حجامت کی تو وہاں موجود ایک مسا (رسولی) کٹ گیا جس سے خون جاری ہو گیا اور وہ نہ رکا یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، یہ واقعہ سنہ 20 ہجری کا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، وہ فتح مکہ کے لیے روانگی کے دوران راستے میں رسول اللہ ﷺ سے ملے تھے اور فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔