کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ابتدائی فضائل — سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، یومِ عاشورا شہید ہوئے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الجوهَري ببغداد، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا محمد بن مصعب، حدثنا الأوزاعي، عن أبي عمار شداد بن عبد الله، عن أم الفضل بنت الحارث: أنها دخلت على رسول الله ﷺ فقالت: يا رسول الله، إني رأيت حُلْمًا منكرًا الليلةَ، قال: "وما هو؟ " قالت: إنه شديد، قال: "وما هو؟ " قالت: رأيتُ كأنَّ قِطعةً من جسدك قطعتْ ووُضِعتْ في حَجْري، فقال رسول الله ﷺ: "رأيت خيرًا، تلد فاطمة إن شاء الله غلامًا، فيكون في حَجْرِك"، فولدت فاطمةُ الحُسين فكان في حَجْري، كما قال رسول الله ﷺ. فدخلتُ يومًا إلى رسول الله ﷺ فوضعته في حَجْره، ثم حانت مني التفاتةٌ فإذا عينا رسول الله ﷺ تُهريقانِ الدُّموع، قالت: فقلت: يا نبي الله، بأبي أنت وأمي، ما لك؟ قال: "أتاني جبريل ﵇، فأخبرني أنَّ أمتي ستقتُل ابني هذا" فقلتُ: هذا؟ قال: "نعم، وأتاني بتُربةٍ من تُربتِه حمراء" (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4818 - بل منقطع ضعيف
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4818 - بل منقطع ضعيف
حافظ طلحہ بابر
ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے آج رات ایک ناپسندیدہ خواب دیکھا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ بہت ہولناک ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے دیکھا کہ جیسے آپ کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، ان شاء اللہ فاطمہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جو تمہاری گود میں ہوگا“، چنانچہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں حسین (رضی اللہ عنہ) پیدا ہوئے اور وہ میری گود میں آئے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، پھر ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حسین کو آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا، اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کو کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی“، میں نے پوچھا: کیا اسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور جبرائیل میرے پاس اس کی جگہ کی سرخ مٹی بھی لائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكِّي، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أبو الأشعث، حدثنا زهير بن العلاء، حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادةَ قال: وَلَدَت فاطمةُ حُسينًا بعد الحسن لسنة وعشرة أشهر، فولدته لستِّ سنين وخمسة أشهر ونصف من التاريخ، وقُتل الحسين يومَ الجمعة يومَ عاشوراءَ لعشرٍ مَضَين من المُحرَّم سنة إحدى وستين، وهو ابن أربع وخمسين سنة (1). وقد ذكرتُ هذه الأخبارَ بشرحها في كتاب "مَقتَل الحسين"، وفيه كفاية لمن سمعه ووَعَاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4819 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4819 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
قتادہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ایک سال اور دس ماہ بعد حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، اس طرح ان کی ولادت ہجری تاریخ کے 6 سال، 5 ماہ اور 15 دن پر ہوئی، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ 10 محرم 61 ہجری، جمعہ کے دن شہید ہوئے جبکہ ان کی عمر 54 برس تھی۔ میں نے ان خبروں کو اپنی کتاب ”مقتل الحسین“ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے اور سننے اور یاد رکھنے والے کے لیے وہ کافی ہے۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مُسلِم. وأخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عفّان، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن أبي راشد عن يعلى العامري: أنه خرج مع رسول الله ﷺ إلى طعام دُعُوا له، قال: فاستَنْتَل (1) رسولُ الله ﷺ أمامَ القوم، وحسين مع غِلمان يلعب، فأراد رسولُ الله ﷺ أن يأخذه، فطَفِقَ الصبيُّ يَفِرُّ هاهنا، مرةٌ، وهاهنا مرةً، فجعل رسولُ الله ﷺ يُضاحِكُه حتى أخذَه، قال: فوضع إحدى يديه تحت قَفاهُ، والأخرى تحت ذَقَنِه، فوضع فاهُ على فِيهِ يُقبِّله، فقال: "حسينٌ مني وأنا من حُسين، أحبَّ اللهُ من أحبَّ حُسينًا، حسينٌ سِبطٌ من الأسباطِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4820 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4820 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یعلی عامری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کھانے کی ایک دعوت پر نکلے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے آگے آگے چلے جبکہ حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکڑنا چاہا تو بچہ کبھی ادھر بھاگتا کبھی ادھر، رسول اللہ ﷺ انہیں ہنسانے لگے یہاں تک کہ انہیں پکڑ لیا، پھر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی کے نیچے اور دوسرا ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر ان کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے، حسین اولاد در اولاد میں سے ایک نمایاں شاخ ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وَكيع عن سفيان، عن أبي الجَحّاف، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: رأيت النبيَّ ﷺ وهو حاملٌ الحسينَ بنَ علي، وهو يقول: "اللهم إني أُحِبُّه فأحِبَّه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد روي بإسناد في الحَسَن مِثلُه (2)، وكلاهما محفوظان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4821 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد روي بإسناد في الحَسَن مِثلُه (2)، وكلاهما محفوظان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4821 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ ﷺ نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو اٹھایا ہوا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسی طرح کی ایک روایت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے اور یہ دونوں ہی (روایات) محفوظ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسی طرح کی ایک روایت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے اور یہ دونوں ہی (روایات) محفوظ ہیں۔
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافِعي من أصل كتابه، حدثنا محمد بن شدّاد المِسْمَعي، حدثنا أبو نُعيم. وحدثني أبو محمد الحسن بن محمد (3) السَّبيعي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد ابن ناجيَة، حدثنا حميد بن الربيع، حدثنا أبو نُعيم. وأخبرنا أبو محمد الحسن (1) بن محمد بن يحيى ابن أخي طاهر العَقِيقيّ العَلَويّ في كتاب "النَّسب"، حدثنا جدّي، حدثنا محمد بن يزيد الأَدَمي، حدثنا أبو نُعيم. وأخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمَسي من كتاب "التاريخ"، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا الحسين بن عمرو العَنْقَزي والقاسم بن دينار، قالا: حدثنا أبو نُعيم. وأخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثني يوسف بن سهل التمار، حدثنا القاسم بن إسماعيل العَرْزمي، حدثنا أبو نُعيم. وأخبرنا أحمد بن كامل، حدثنا عبد الله بن إبراهيم البزاز، حدثنا كَثير بن محمد أبو أنس الكوفي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عبد الله بن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبيه، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس، قال: أَوحَى الله تعالى إلى محمد ﷺ: إني قتلتُ بيحيى بن زكريا سبعين ألفًا، وإني قاتلٌ بابن ابنتِك سبعين ألفًا وسبعين ألفًا (2). هذا لفظ حديث الشافعي، وفي حديث القاضي أبي بكر بن كامل: إني قتلتُ على دم يحيى بن زكريا، وإني قاتلٌ على دم ابن ابنتِك.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4822 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4822 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی طرف وحی فرمائی: ”بے شک میں نے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے بدلے ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا تھا، اور یقیناً میں تمہاری بیٹی کے بیٹے (حسین رضی اللہ عنہ) کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار (یعنی ایک لاکھ چالیس ہزار) لوگوں کو قتل کروں گا۔“ یہ امام شافعی کی روایت کے الفاظ ہیں، جبکہ قاضی ابوبکر بن کامل کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”میں نے یحییٰ بن زکریا کے خون کے بدلے قتل کیا، اور میں تمہاری بیٹی کے بیٹے کے خون کے بدلے (اتنے ہی) قتل کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا أبو عُبيدة بن فُضيل بن عِياض، حدثنا مالك بن سُعَير بن الخِمْس، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا نُعيم بن عبد الله المُجمِر، عن أبي هريرة، قال: ما رأيتُ الحُسين بن علي إلَّا فاضت عيني دموعًا، وذاك أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومًا، فوَجَدني في المسجد فأخذ بيدي واتكأ عليَّ، فانطلقتُ معه حتى جاء سوق بني قَيْنقاع، قال: وما كلَّمَني، فطافَ ونَظَر، ثم رجع ورجعتُ معه، فجلس في المسجد واحتَبى، وقال لي: "ادعُ لي لَكَاعِ"، فأُتي بحُسين يشتدُّ حتى وقع في حَجْره، ثم أدخل يدَه في لحيةِ رسول الله ﷺ، فجعل رسول الله ﷺ يفتحُ فمَ الحُسين فيُدخِل فيه من فيهِ (1)، ويقول: "اللهم إني أُحبُّه فأَحِبَّه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4823 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4823 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جب بھی حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں، اور یہ اس لیے ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے، مجھے مسجد میں پایا، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ پر ٹیک لگائی، میں آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ بنو قینقاع کے بازار پہنچے، آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، وہاں چکر لگایا اور دیکھا، پھر واپس آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، آپ مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: ”چھوٹے بچے کو میرے پاس بلاؤ“، پس حسین دوڑتے ہوئے آئے اور آپ ﷺ کی گود میں گر گئے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی مبارک میں ڈالا، تو رسول اللہ ﷺ حسین کا منہ کھول کر اپنا لعابِ دہن ان کے منہ میں ڈالنے لگے اور فرمانے لگے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سَمِينة، حدثنا محمد بن مُصعب، حدثنا الأوزاعي، عن أبي عمّار، عن أم الفضل قالت: قال لي رسول الله ﷺ والحُسينُ في حَجْره: "إِنَّ جبريلَ ﵇ أخبرني أن أمتي تَقتُل الحُسينَ" (1). قد اختصر ابن أبي سَمِينة هذا الحديثَ، ورواه غيره عن محمد بن مصعب بالتّمَامِ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4824 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4824 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس حال میں فرمایا کہ حسین آپ کی گود میں تھے: ”بے شک جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت حسین کو شہید کر دے گی۔“ ابن ابی سمینہ نے اس حدیث کو مختصراً بیان کیا ہے جبکہ دیگر رواۃ نے اسے محمد بن مصعب سے مکمل نقل کیا ہے۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحيم الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا علي بن قادم، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن يحيى بن سعيد، قال: كنا عند علي بن الحسين، فجاء قوم من الكوفيين، فقال عليٌّ: يا أهلَ، العراق، أحِبُّونا حُبَّ الإسلام، سمعت أبي يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "يا أيها الناس، لا تَرفَعُوني فوقَ قَدْري، فإنَّ الله اتَّخَذني عبدًا قبل أن يَتَّخذني نبيًّا". فذكرتُه لسعيد بن المسيّب فقال: وبعدما اتَّخَذه نبيًا (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4825 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4825 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم علی بن حسین (زین العابدین) کے پاس تھے کہ اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ آئے، تو علی نے فرمایا: اے اہل عراق! ہم سے اسلام والی محبت کرو، میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنانے سے پہلے اپنا بندہ بنایا تھا۔“ میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: اور نبی بنانے کے بعد بھی (وہ اللہ کے بندے ہی رہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔