المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَوَّلُ فَضَائِلِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الشَّهِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابْنِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: سیدنا ابو عبد اللہ حسین بن علی شہید رضی اللہ عنہما — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فرزند — کے ابتدائی فضائل
حدیث نمبر: 4877
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن قَحْطَبة، حدثنا الحسين بن أبي كبشة، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سلام بن مسكين، عن عِمران بن عبد الله، قال: رأى الحسنُ بن علي فيما يرى النائمُ بين عينيه مكتوبًا ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، فقصَّها على سعيد بن المسيب فقال: إن صَدَقَت رُؤياكَ فقد حَضَرَ أجلُك، قال: فسُمَّ في تلك السنة ومات، رحمة الله عليه (1) [أول فضائل أبي عبد الله الحسين بن علي الشهيد ابن فاطمة بنت رسول الله ﷺ وعلى آله]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4817 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهحافظ طلحہ بابر
عمران بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خواب میں دیکھا کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] لکھا ہوا ہے، انہوں نے یہ خواب سعید بن مسیب کو سنایا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کا خواب سچا ہے تو یقیناً آپ کی موت کا وقت قریب آ پہنچا ہے، راوی کہتے ہیں: پس اسی سال انہیں زہر دیا گیا اور ان کی وفات ہو گئی، اللہ ان پر رحم فرمائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسنادُه حسن من أجل عمران بن عبد الله: وهو ابن طلحة الخُزاعي، وله رواية عن ابن المسيب، إلّا أنه لم يدرك الحسن بن علي، فروايته هذه مرسلة.
درجۂ سند: اس کی سند عمران بن عبداللہ (ابن طلحہ الخزاعی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ان کی سعید بن المسیب سے روایت موجود ہے، مگر انہوں نے حسن بن علی کا زمانہ نہیں پایا، لہٰذا ان کی یہ روایت "مرسل" ہے۔
وأخرجه ابن سعد 6/ 386، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (399)، وابن عساكر 13/ 281 من طرق عن سلام بن مسكين، به.
تخریج / حوالہ: اسے ابن سعد (6/ 386)، ابوالقاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (399) اور ابن عساکر (13/ 281) نے سلام بن مسکین کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ سند: اس کی سند عمران بن عبداللہ (ابن طلحہ الخزاعی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ان کی سعید بن المسیب سے روایت موجود ہے، مگر انہوں نے حسن بن علی کا زمانہ نہیں پایا، لہٰذا ان کی یہ روایت "مرسل" ہے۔
وأخرجه ابن سعد 6/ 386، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (399)، وابن عساكر 13/ 281 من طرق عن سلام بن مسكين، به.
تخریج / حوالہ: اسے ابن سعد (6/ 386)، ابوالقاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (399) اور ابن عساکر (13/ 281) نے سلام بن مسکین کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4877 سے ماخوذ ہے۔