کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام رکھنے سے متعلق حدیث
حدثنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا بشر بن مهران، حدثنا شريك، عن عبد الملك بن عُمير، قال: دخل يحيى بن يَعْمَر على الحَجَّاج. وحدثنا إسحاق بن محمد بن علي بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا محمد بن عُبيد النحاس، حدثنا صالح بن موسى الطَّلحي، حدثنا عاصم بن بَهْدَلة، قال: اجْتَمَعُوا عند الحجاج، فذكر الحسين بن عليّ، فقال الحجاج: لم يكن من ذرية النبي ﷺ، وعنده يحيى بن يَعْمَر، فقال له: كذبت أيها الأميرُ، فقال: لتأتيَنِّي على ما قلت ببيِّنةٍ ومصداقٍ من كتاب الله ﷿، أو لأقتُلنَّكَ، قال: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى﴾ إلى قوله ﷿: ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى﴾ [الأنعام: 84 - 85]، فأخبر الله ﷿ أنَّ عيسى من ذُرِّية آدمَ بأُمّه، والحسين بن علي من ذرية محمد ﷺ بأُمه، قال: صدقت، فما حَمَلَك على تكذيبي في مجلسي؟ قال: ما أَخَذَ الله على الأنبياء لَيُبيّننَّه للناس ولا يَكتُمونه، قال الله ﷿: ﴿فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [آل عمران: 187]، قال: فنَفاه إلى خُراسان (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4772 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن بہدلہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ لوگ حجاج (بن یوسف) کے پاس جمع تھے تو اس نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر چھیڑا اور کہا: وہ نبی کریم ﷺ کی ذریت (اولاد) میں سے نہیں تھے، اس وقت وہاں یحییٰ بن یعمر موجود تھے، انہوں نے کہا: اے امیر! تو نے جھوٹ کہا ہے، حجاج نے (غصے میں آ کر) کہا: تم نے جو بات کہی ہے اس پر اللہ عزوجل کی کتاب سے کوئی واضح دلیل اور سچائی پیش کرو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا، انہوں نے یہ آیات تلاوت کیں: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى﴾ یہاں تک کہ اللہ عزوجل کے اس فرمان تک پہنچے: ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى﴾ [سورة الأنعام: 84 - 85]، (اور استدلال کیا کہ) اللہ عزوجل نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے واسطے سے ذریتِ انبیاء میں سے ہیں، اسی طرح حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی اپنی والدہ کے واسطے سے محمد ﷺ کی ذریت سے ہیں، حجاج نے کہا: تم نے سچ کہا، لیکن تمہیں میری مجلس میں میری بات جھٹلانے پر کس چیز نے اکسایا؟ انہوں نے جواب دیا: اس عہد نے جو اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے لیا ہے کہ وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 187] ”پس انہوں نے اس (عہد) کو اپنے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے معمولی قیمت خرید لی۔“ راوی کہتے ہیں: پھر حجاج نے انہیں جلاوطن کر کے خراسان بھیج دیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4828
درجۂ حدیث محدثین: خبر محتمل للتحسين
تخریج حدیث «خبر محتمل للتحسين، وهذان الإسنادان ضعيفان من أجل بشر، ويقال: بشير بن مهران - وهو الخصاف - وصالح بن موسى الطلحي، فهما ضعيفان، وقد رُوي نحو هذه القصة عن أبي حرب بن أبي الأسود الدؤلي أيضًا، لكن في الإسناد إليه رجلٌ ضعيف كذلك، غير أنَّ هذه الطرق باجتماعها يمكن تحسين ...» [ترقيم الرساله 4828] [ترقيم الشركة 4800] [ترقيم العلميه 4772]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي بن أبي طالب، قال: لما ولدت فاطمة الحسن جاء رسول الله ﷺ، فقال: "أرُوني ابني، ما سميتموه؟ " قال: قلتُ: سميتُه حَرْبًا، قال: "بل هو حَسَنٌ"، فلما وَلَدَت الحسين جاء رسول الله، فقال: "أَرُوني ما سميتموه؟ " قال: قلت: سميتُه حَرْبًا، فقال: "بل هو حُسين"، ثم لما وَلَدَت الثالث جاء رسول الله ﷺ، قال: "أَرُوني ابني، ما سميتموه؟ " قلت: سمّيته حَرْبًا، قال: "بل هو محسِّن"، ثم قال: "إنما سميتهم باسم ولد هارون: شَبَّرٍ وشَبِيرٍ ومُشَبِّرٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4773 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (سیدہ) فاطمہ کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام ”حرب“ رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا نام حسن ہے“، پھر جب حسین پیدا ہوئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام ”حرب“ رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا نام حسین ہے“، پھر جب تیسرے (بیٹے) کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام ”حرب“ رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا نام محسن ہے“، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں نے ان کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے ناموں پر رکھے ہیں، یعنی شبر، شبیر اور مشبر۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4829
درجۂ حدیث محدثین: حديث منكر
تخریج حدیث «حديث منكر، هانئ بن هانئ تفرَّد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، وقال الشافعي وابن المديني: مجهول، وقال ابن سعد: منكر الحديث، ومع ذلك قال النسائي: ليس به بأس، قلنا: وهذا عند عدم المخالفة، وأما في هذا الحديث فقد خالف حديث عبد الله بن محمد بن عقيل عن أبيه عن عليّ ...» [ترقيم الرساله 4829] [ترقيم الشركة 4801] [ترقيم العلميه 4773]
حدثني عبد الأعلى بن عبد الله بن سليمان بن الأشعث السِّجستاني ببغداد، حدثني أبي، حدثنا أحمد بن الوليد بن بُرد الأنطاكي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، حدثنا محمد بن موسى المخزومي، حدثنا عَوْن بن محمد، عن أبيه، عن أم جعفر أمِّه، عن جدَّتها أسماء، عن فاطمة: أنَّ رسول الله ﷺ أتاها يومًا فقال: "أين ابناي؟ " فقالت: ذهب بهما عليٌّ، فتوجّه رسول الله ﷺ، فوجدهما يلعبان في شَرَبةٍ وبين أيديهما فَضْلٌ من تمرٍ، فقال: "يا علي، ألا تَقلِبُ ابنَيَّ قبلَ الحَرِّ"، وذكر باقي الحديث (2). محمد بن موسى: هذا هو ابن مَشمُول مَديني ثقة وعون هذا: هو ابن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، هو وأبوه ثقتان، وأم جعفر: هي ابنة القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق، وجدَّتُها أسماء بنت أبي بكر الصديق ﵃ (1)، وكلُّهم أشراف ثقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4774 - بل محمد ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ان کے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”میرے دونوں بیٹے کہاں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: علی (رضی اللہ عنہ) انہیں لے کر گئے ہیں، پس رسول اللہ ﷺ (ان کی تلاش میں) روانہ ہوئے اور انہیں ایک حوض (یا باغ کے پانی والے حصے) میں کھیلتے ہوئے پایا جبکہ ان کے سامنے کچھ بچے ہوئے کھجور پڑے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! کیا تم تمازت (دھوپ کی شدت) سے پہلے میرے بیٹوں کو واپس نہیں لے جاؤ گے؟“
محمد بن موسیٰ بن مشمول مدنی ثقہ ہیں، عون اور ان کے والد بھی ثقہ ہیں، اور ام جعفر قاسم بن محمد بن ابوبکر کی صاحبزادی ہیں جبکہ ان کی دادی اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما ہیں، اور یہ تمام راوی معزز اور ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4830
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 4/ 105
تخریج حدیث «إسناده حسن كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 4/ 105، لكن وقع في إسناد المصنف هنا زيادة مقحمة، وهي ذكر والد عون بن محمد، وهو محمد بن علي بن أبي طالب: المعروف بابن الحنفية، فقد روى هذا الحديث جماعة من أصحاب محمد بن إسماعيل بن أبي فُديك فلم يذكروه، وروي ...» [ترقيم الرساله 4830] [ترقيم الشركة 4802] [ترقيم العلميه 4774]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن المُنادِي، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن عبد الله بن شداد بن الهادِ، عن أبيه، قال: خرج علينا رسول الله ﷺ وهو حاملٌ أحد ابنيه، الحَسَنَ أو الحُسينَ، فتقدَّم رسول الله ﷺ فَوَضَعَه عند قدمه اليُمنى، فسجد رسول الله ﷺ سجدةً أطالها، قال أبي: فرفعتُ رأسي من بين الناس، فإذا رسول الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغُلامُ راكبٌ على ظهره، فعُدْتُ فسجدتُ، فلما انصرف رسول الله ﷺ قال الناسُ: يا رسول الله، لقد سجدت في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تَسجُدُها، أفَشَيءٌ أُمرتَ به، أو كان يُوحَى إليك؟ قال: "كلُّ ذلك لم يكن، إن ابني ارتَحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يَقضي حاجته" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4775 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن شداد بن ہاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں بیٹوں حسن یا حسین میں سے کسی ایک کو اٹھایا ہوا تھا، پس رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور انہیں اپنے دائیں قدم کے پاس بٹھا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں) ایک ایسا سجدہ کیا جسے بہت طویل کر دیا، میرے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں کے درمیان سے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے اور بچہ آپ ﷺ کی پشت پر سوار تھا، پس میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اس نماز میں ایسا طویل سجدہ کیا جو آپ (عام طور پر) نہیں کرتے تھے، کیا آپ کو کسی نئی بات کا حکم دیا گیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہ تھی، بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا تو میں نے یہ ناپسند کیا کہ اس کی ضرورت (کھیل اور شوق) پوری ہونے سے پہلے اسے جلدی میں اتار دوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4831
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4831] [ترقيم الشركة 4803] [ترقيم العلميه 4775]