المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
حَدِيثُ تَسْمِيَةِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام رکھنے سے متعلق حدیث
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن المُنادِي، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن عبد الله بن شداد بن الهادِ، عن أبيه، قال: خرج علينا رسول الله ﷺ وهو حاملٌ أحد ابنيه، الحَسَنَ أو الحُسينَ، فتقدَّم رسول الله ﷺ فَوَضَعَه عند قدمه اليُمنى، فسجد رسول الله ﷺ سجدةً أطالها، قال أبي: فرفعتُ رأسي من بين الناس، فإذا رسول الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغُلامُ راكبٌ على ظهره، فعُدْتُ فسجدتُ، فلما انصرف رسول الله ﷺ قال الناسُ: يا رسول الله، لقد سجدت في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تَسجُدُها، أفَشَيءٌ أُمرتَ به، أو كان يُوحَى إليك؟ قال: "كلُّ ذلك لم يكن، إن ابني ارتَحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يَقضي حاجته" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4775 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن شداد بن ہاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں بیٹوں حسن یا حسین میں سے کسی ایک کو اٹھایا ہوا تھا، پس رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور انہیں اپنے دائیں قدم کے پاس بٹھا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں) ایک ایسا سجدہ کیا جسے بہت طویل کر دیا، میرے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں کے درمیان سے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے اور بچہ آپ ﷺ کی پشت پر سوار تھا، پس میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اس نماز میں ایسا طویل سجدہ کیا جو آپ (عام طور پر) نہیں کرتے تھے، کیا آپ کو کسی نئی بات کا حکم دیا گیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہ تھی، بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا تو میں نے یہ ناپسند کیا کہ اس کی ضرورت (کھیل اور شوق) پوری ہونے سے پہلے اسے جلدی میں اتار دوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (6776) من طريق يزيد بن هارون عن جرير بن حازم.
حوالہ: یہ روایت آگے مصنف کے ہاں نمبر (6776) پر یزید بن ہارون کے واسطے سے آئے گی جو جریر بن حازم سے روایت کرتے ہیں۔