أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكي، حدثنا محمد بن إسحاق الثّقفي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمر، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة قالت: مَكثَت فاطمة بعد وفاة رسول الله ﷺ ستة أشهر (1). تابعه صالح بن كَيْسان وعُقَيلُ وابنُ عُيَينة والمُوَقَّرِيُّ (2) ومحمد بن عبد الله ابن أخي الزُّهْري (3) وابنُ جُريج، كلُّهم نحوه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد چھ ماہ تک حیات رہیں۔ صالح بن کیسان، عقیل، ابن عیینہ، موقری، ابن اخی زہری اور ابن جریج سب نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
أخبرنا أبو محمد الحسن بن محمد بن يحيى ابن أخي طاهر العقيقي العلوي ببغداد، حدثنا جدّي يحيى بن الحسن، حدثنا بكر بن عبد الوهاب، حدثنا محمد ابن عمر الواقدي، حدثنا عمر (1) بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن ابن عباس قال: كانت فاطمة قد مَرِضت مرضًا شديدًا، فقالت لأسماء بنت عُميس: ألا ترين إلى ما بلغت، أُحمَلُ على السرير ظاهرًا؟! فقالت أسماء: ألا لَعَمْري، ولكن أصنعُ لكِ نَعْشًا كما رأيتُه يُصنَع بأرض الحبشة، قالت: فأرينيه، قال: فأرسلت أسماء إلى جَرائدَ رَطْبةٍ فقُطعت من الأسواف، وجعلت على السرير نعشًا، وهو أول ما كان النعشُ، فتبسمت فاطمةُ، وما رأيتُها مُتبسمةً بعد أبيها إلا يومئذ، ثم حَمَلْناها فدفناها ليلًا (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا شدید علیل ہو گئیں، تو انہوں نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تم دیکھتی نہیں کہ میرا حال کیا ہو گیا ہے، مجھے (جنازے کے) تختے پر اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ میرا بدن ظاہر ہوگا؟“ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میری عمر کی قسم (ایسا نہیں ہوگا)، بلکہ میں آپ کے لیے ایک ایسا پردہ دار جنازہ (تابوت) تیار کروں گی جیسا میں نے سرزمینِ حبشہ میں بنتے دیکھا تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”مجھے وہ دکھاؤ“، اسماء رضی اللہ عنہا نے کھجور کی تروتازہ ٹہنیاں منگوائیں جو اسواف سے کاٹی گئی تھیں اور چارپائی کے گرد ایک پردہ دار ڈھانچہ تیار کیا، یہ پہلا موقع تھا جب جنازے کے لیے اس طرح کا پردہ دار انتظام کیا گیا، اسے دیکھ کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں، اور میں نے انہیں ان کے والد کی وفات کے بعد صرف اسی دن مسکراتے ہوئے دیکھا، پھر ہم نے انہیں اٹھایا اور رات کے وقت دفن کر دیا۔
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحسين بن يعقوب الحافظ قالا: حدثنا أبو العباس محمد بن إسحاق، حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عُقَيل، عن الزُّهْري، عن عُروة قال (1): دُفنت فاطمة بنت رسول الله ﷺ ليلًا، دَفَنَها عليٌّ ولم يَشعُر بها أبو بكر حتى دُفنت، وصلى عليها علي بن أبي طالب (2).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رات کے وقت دفن کیا گیا، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دفن کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کے دفن ہونے تک خبر نہ ہوئی، اور ان کی نمازِ جنازہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
أخبرنا أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا أبو العباس الثقفي، حدثني علي بن عَقيل بن عبد الله بن محمد بن عقيل، حدثني عيسى بن عبد الله العَلَوي، عن أبيه، عن أم الحسن بنت أبي جعفر محمد بن علي، عن أخيها جعفر بن محمد، قال: ماتت فاطمة وهي ابنة إحدى وعشرين، ووُلِدت على رأس سنة إحدى وأربعين من مولد النبي ﷺ (3).
حافظ طلحہ بابر
ام الحسن بنت ابی جعفر محمد بن علی اپنے بھائی جعفر بن محمد سے روایت کرتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات 21 برس کی عمر میں ہوئی، اور ان کی ولادت نبی کریم ﷺ کی ولادت کے 41 ویں سال کے آغاز پر ہوئی تھی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عليّ حمدانُ الوَرّاق، حدثنا موسى بن داود الضَّبي، حدثنا عبد الله بن المؤمل، عن ابن أبي مُليكة، عائشة قالت: كان بين النبي ﷺ وبين فاطمة شهران (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (کی وفات) کے درمیان صرف دو ماہ کا فاصلہ تھا۔