کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: میرے رب نے مجھ سے میرے اہلِ بیت کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن الحسن الأصبَهاني، حدثنا محمد بن بُكير الحضرمي، حدثنا محمد بن فُضيل الضَّبِّي، حدثنا أبان بن تَغلِب، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ: "والذي نفسي بيدِه، لا يُبغِضُنا أهلَ البيت أحدٌ إِلَّا أَدخلَه اللهُ النارَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4717 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4717 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ہم اہل بیت سے کوئی بھی بغض نہیں رکھے گا مگر یہ کہ اللہ اسے آگ میں داخل کر دے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا الخليل بن عمر بن إبراهيم، حدثنا عمر بن سعيد الأبَحّ، عن سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "وَعَدَني ربّي في أهل بيتي من أقرَّ منهم بالتوحيدِ ولي بالبلاغِ، أن لا يُعذّبَهم" (1). قال عمر بن سعيد الأبَحّ: وماتَ سعيد بن أبي عَروبة يوم الخميس، وكان حدَّث بهذا الحديثِ يومَ الجمعة مات بعدَه بسبعةِ أيام في المسجد، فقال قومٌ: لا جزاك الله خيرًا، صاحبُ رفض وبَلاء (2)، وقال قوم: جزاك الله خيرًا، صاحبُ سنةٍ وجماعة، أدَّيتَ ما سمعتَ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4718 - بل منكر لم يصح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4718 - بل منكر لم يصح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے میرے اہل بیت کے بارے میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان میں سے جو بھی توحید کا اقرار کرے گا اور میری تبلیغ کی تصدیق کرے گا، اللہ اسے عذاب نہیں دے گا۔“ عمر بن سعید کہتے ہیں کہ سعید بن ابی عروبہ کی وفات اس حدیث کو بیان کرنے کے سات دن بعد ہوئی، جس پر کچھ لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے ان کی تعریف کی کہ انہوں نے جو سنا وہ امت تک پہنچا دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني جعفر بن محمد بن نُصير الخُلْدي، ببغداد، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن بُكير بن مِسْمار، عن عامر بن سعد، عن أبيه، قال: لما نزلت هذه الآية: ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ﴾ الآية [آل عمران: 61]، دعا رسولُ الله ﷺ عليًّا وفاطمة وحَسنًا وحُسينًا، فقال: "اللهمَّ هؤلاءِ أهلي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4719 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4719 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ﴾ ”ہم اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو بلا لیں“ [سورة آل عمران: 61] نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو طلب فرمایا اور دعا کی: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن جعفر بن حَمْدان الزاهد ببغداد، حدثنا العباس بن إبراهيم القَراطيسي، حدثنا محمد بن إسماعيل الأحْمَسي، حدثنا مُفضَّل بن صالح، عن أبي إسحاق، عن حَنَشٍ الكِناني، قال: سمعتُ أبا ذر يقولُ وهو آخِذٌ بباب الكعبة: مَن عَرَفني فأنا مَن عَرفني، ومن أنكرني فأنا أبو ذرٍّ، سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول: "ألا إِنَّ مَثَلَ أهلِ بيتي فيكم مَثَلُ سفينةِ نُوحٍ، مَن رَكِبها نجا، ومن تَخلَّفَ عنها هَلَكَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4720 - مفضل بن صالح واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4720 - مفضل بن صالح واه
حافظ طلحہ بابر
حنش کنانی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے یہ کہتے سنا: ”جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا تو (جان لے کہ) میں ابوذر ہوں، میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: آگاہ رہو! بے شک تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی جیسی ہے، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا حدثنا جعفر بن محمد الخُلْدي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا موسى بن هارون، حدثنا قُتَيبة (1) بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن بُكير بن مِسمار، عن عامر بن سعد، عن أبيه قال: لما نزلت هذه الآية ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ دعا رسولُ الله ﷺ عليًا وفاطمةَ وحُسنًا وحُسينًا، فقال: "اللهمَّ هؤلاءِ أهلُ بيتي" (2). اتفق الشيخان على صحة هذا الإسناد، واحتجّا به ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا بهذا الإسناد قصة أبي تُراب (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 61] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
شیخین نے اس سند کی صحت پر اتفاق کیا ہے اور اسے بطور حجت قبول کیا ہے لیکن اسے اس مقام پر روایت نہیں کیا، انہوں نے اسی سند کے ساتھ صرف ابوتراب کا قصہ روایت کیا ہے۔
شیخین نے اس سند کی صحت پر اتفاق کیا ہے اور اسے بطور حجت قبول کیا ہے لیکن اسے اس مقام پر روایت نہیں کیا، انہوں نے اسی سند کے ساتھ صرف ابوتراب کا قصہ روایت کیا ہے۔