المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَعَدَنِي رَبِّي فِي أَهْلِ بَيْتِي أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ باب: میرے رب نے مجھ سے میرے اہلِ بیت کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا
حدیث نمبر: 4772
حدثنا حدثنا جعفر بن محمد الخُلْدي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا موسى بن هارون، حدثنا قُتَيبة (1) بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن بُكير بن مِسمار، عن عامر بن سعد، عن أبيه قال: لما نزلت هذه الآية ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ دعا رسولُ الله ﷺ عليًا وفاطمةَ وحُسنًا وحُسينًا، فقال: "اللهمَّ هؤلاءِ أهلُ بيتي" (2). اتفق الشيخان على صحة هذا الإسناد، واحتجّا به ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا بهذا الإسناد قصة أبي تُراب (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 61] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
شیخین نے اس سند کی صحت پر اتفاق کیا ہے اور اسے بطور حجت قبول کیا ہے لیکن اسے اس مقام پر روایت نہیں کیا، انہوں نے اسی سند کے ساتھ صرف ابوتراب کا قصہ روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع في (ز) وحدها: بسر، بدل "قتيبة"، وهو خطأ.
نوٹ / توضیح: صرف نسخہ (ز) میں "قتیبہ" کی جگہ "بسر" لکھا گیا ہے، اور یہ غلطی ہے۔
(2) إسناده جيد، وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (4770).
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "جید" ہے، اور یہ گزشتہ حدیث نمبر (4770) کا مکرر ہے۔
(3) أخرج مسلم بهذا الإسناد (2404) (32) هذا الحديث بعينه - أي: حديث المباهلة - عن قتيبة بن سعيد ضمن حديث مطوَّل، ولم يخرجه البخاري، بل لم يخرج البخاري لبكير بن مسمار شيئًا، فضلًا عن أن يكون احتجَّ به كما زعم المصنّف. والمراد بقوله: قصة أبي تراب، يعني قول معاوية بن أبي سفيان لسعد بن أبي وقاص في ذلك الحديث المطوّل: ما يمنعك أن تَسُبَّ أبا تراب.
حوالہ / مصدر: مسلم (2404) (32) نے اسی اسناد کے ساتھ بعینہٖ یہی حدیث - یعنی حدیث مباہلہ - قتیبہ بن سعید سے ایک طویل حدیث کے ضمن میں تخریج کی ہے۔ بخاری نے اسے تخریج نہیں کیا، بلکہ بخاری نے بکیر بن مسمار سے کچھ بھی روایت نہیں کیا، چہ جائیکہ وہ ان سے حجت پکڑتے جیسا کہ مصنف (حاکم) نے گمان کیا ہے۔ "ابو تراب کے قصے" سے مراد اس طویل حدیث میں معاویہ بن ابی سفیان کا سعد بن ابی وقاص سے یہ کہنا ہے کہ: "تمہیں ابو تراب کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے روکا ہے؟"۔
نوٹ / توضیح: صرف نسخہ (ز) میں "قتیبہ" کی جگہ "بسر" لکھا گیا ہے، اور یہ غلطی ہے۔
(2) إسناده جيد، وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (4770).
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "جید" ہے، اور یہ گزشتہ حدیث نمبر (4770) کا مکرر ہے۔
(3) أخرج مسلم بهذا الإسناد (2404) (32) هذا الحديث بعينه - أي: حديث المباهلة - عن قتيبة بن سعيد ضمن حديث مطوَّل، ولم يخرجه البخاري، بل لم يخرج البخاري لبكير بن مسمار شيئًا، فضلًا عن أن يكون احتجَّ به كما زعم المصنّف. والمراد بقوله: قصة أبي تراب، يعني قول معاوية بن أبي سفيان لسعد بن أبي وقاص في ذلك الحديث المطوّل: ما يمنعك أن تَسُبَّ أبا تراب.
حوالہ / مصدر: مسلم (2404) (32) نے اسی اسناد کے ساتھ بعینہٖ یہی حدیث - یعنی حدیث مباہلہ - قتیبہ بن سعید سے ایک طویل حدیث کے ضمن میں تخریج کی ہے۔ بخاری نے اسے تخریج نہیں کیا، بلکہ بخاری نے بکیر بن مسمار سے کچھ بھی روایت نہیں کیا، چہ جائیکہ وہ ان سے حجت پکڑتے جیسا کہ مصنف (حاکم) نے گمان کیا ہے۔ "ابو تراب کے قصے" سے مراد اس طویل حدیث میں معاویہ بن ابی سفیان کا سعد بن ابی وقاص سے یہ کہنا ہے کہ: "تمہیں ابو تراب کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے روکا ہے؟"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4772 سے ماخوذ ہے۔