کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح اور اس کی وجہ
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يحيى (1) الغازي، حدثنا المسيَّب بن زُهير الضَّبِّي (2)، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا المسعُودي، عن عمرو بن مُرّة، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله بن مسعودٍ، قال قال رسول الله ﷺ: "النظَرُ إلى وجهِ عليٍّ عِبادةٌ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔“
حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة المُعدَّلانِ، قالا: حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا مُعلَّى بن أَسد، حدثنا وُهَيب بن خالد، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن علي بن الحسين: أنَّ عمر بن الخطّاب خَطَبَ إلى عليٍّ أُمَّ كُلثوم، فقال: أَنكِحْنيها، فقال عليٌّ: إني أُرصِدُها لابن أخي عبد الله بن جعفر، فقال عمر: أَنْكِحْنيها، فوالله ما من الناسِ أحدٌ يُرصِدُ من أمرِها ما أُرصِدُه، فأنكَحَه عليٌّ، فأتى عمرُ المهاجرين، فقال: ألا تُهَنُّوني؟ فقالوا: بمن يا أمير المؤمنين؟ فقال: بأمِّ كُلثومٍ بنت عليّ وابنة فاطمةَ بنتِ رسولِ الله ﷺ، إني سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "كلُّ نَسَبٍ وسَبَبٍ يَنقطعُ يومَ القيامة، إلَّا ما كان مِن سَبَبي ونَسَبي"، فأحببتُ أن يكون بيني وبين رسولِ الله ﷺ نَسَبٌ وسَبَبٌ (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4684 - منقطع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4684 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن حسین سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کی صاحبزادی ام کلثوم کا رشتہ مانگا اور کہا: ”ان کا نکاح میرے ساتھ کر دیں،“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے انہیں اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفر کے لیے روک رکھا ہے،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصرار کرتے ہوئے کہا: ”ان کا نکاح مجھ سے کر دیں، کیونکہ اللہ کی قسم! لوگوں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس رشتے میں وہ فضیلت پانے کا آرزومند ہو جس کا میں طلبگار ہوں،“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا نکاح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دو گے؟“ انہوں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کس خوشی میں؟ انہوں نے فرمایا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور رسول اللہ ﷺ کی نواسی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ میرے نکاح کی خوشی میں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”قیامت کے دن ہر نسب اور سسرالی تعلق (سبب) منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب اور تعلق کے،“ اس لیے میں نے یہ پسند کیا کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان نسبی اور سسرالی رشتہ قائم ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا الهيثم بن خلف الدُّوريّ، حدثني محمد بن عمر بن هَيّاج، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن الأَرْحَبي، حدثنا يونس بن أبي يَعفُور، عن أبيه، قال: حدثني حَيّان الأسدي قال: سمعتُ علي بن أبي طالب يقول: قال لي رسول الله ﷺ: "عهدٌ معهودٌ: إِنَّ الأمّة ستَغدِرُ بك بعدي، وأنتَ تعيشُ على مِلَّتي، وتُقتل على سُنَّتي، من أحبّك أحبَّني، ومن أبغضَك أبغضَني، وإِنَّ هذه ستُخضَبُ من هذا"؛ يعني لحيتَه من رأسِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہ ایک پکا عہد ہے کہ عنقریب یہ امت میرے بعد تمہارے ساتھ بے وفائی کرے گی، تم میرے دین پر زندگی گزارو گے اور میری سنت پر شہید کیے جاؤ گے، جس نے تم سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے تم سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور یقیناً یہ (داڑھی) اس (سر کے خون) سے رنگین ہو جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سلمة ومحمد بن شاذان، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن رافع، قالا حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا النعمان بن أبي شَيْبة، عن سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن حذيفة، قال: قال رسول الله ﷺ: "إن وَلَّيتُموها أبا بكر فزاهدٌ في الدنيا، راغِبٌ في الآخرة، وفي جِسمِه ضَعْف، وإن وَلَّيتُموها عُمَر فقويٌّ أمينٌ لا يَخافُ في الله لَومةَ لائمٍ، وإن وَلَّيتُموها عليًّا فهادٍ مُهتَدٍ يُقِيمُكم على صراطٍ مستقيمٍ" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مَقتَل أميرِ المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁ بأصحّ الأسانيد على سبيل الاختصار
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4685 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مَقتَل أميرِ المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁ بأصحّ الأسانيد على سبيل الاختصار
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4685 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ابوبکر کو حکمران بناؤ گے تو وہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے طلبگار ہیں، البتہ ان کے جسم میں کچھ نحافت ہے، اور اگر تم عمر کو حکمران بناؤ گے تو وہ قوی اور امانت دار ہیں، اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے، اور اگر تم علی کو حکمران بناؤ گے تو وہ خود بھی ہدایت یافتہ ہیں اور دوسروں کو بھی راہ دکھانے والے ہیں، وہ تمہیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
[امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مختصر تذکرہ، مستند ترین اسانید کے ساتھ]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
[امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مختصر تذکرہ، مستند ترین اسانید کے ساتھ]