حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكن، حدثنا الحارث بن منصور، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن جُرَيّ بن كُلَيب العامِري قال: لما سارَ عليٌّ إلى صِفّين كرهتُ القتالَ، فأتيتُ المدينةَ، فدخلتُ على مَيمونةَ بنت الحارث، فقالت: ممن أنتَ؟ قلت: من أهل الكوفة، قالت: من أيِّهم؟ قلت: من بني عامر، قالت: رُحْبًا على رُحْبٍ، وقُربًا على قُرب، مَجيءٌ ما جاءَ بك؟ قال: قلتُ: سارَ عليٌّ إلى صِفِّينَ وكرهتُ القتالَ، فجئنا إلى هاهنا، قالت: أكنتَ بايعتَه؟ قال: قلت: نعم، قالت: فارجِعْ إليه، فكُن معه، فواللهِ ما ضَلَّ ولا ضُلَّ به (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4680 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4680 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
جری بن کلیب عامری سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے قتال ناپسند محسوس ہوا، چنانچہ میں مدینہ آگیا اور ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے پوچھا: ”تم کہاں سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے پوچھا: ”کون سے قبیلے سے؟“ میں نے کہا: بنی عامر سے، انہوں نے فرمایا: ”خوش آمدید، تمہارا آنا مبارک ہو، یہاں کیسے آنا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف نکلے ہیں اور مجھے جنگ ناپسند تھی اس لیے میں یہاں آگیا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے ان کی بیعت کر رکھی تھی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: ”تو پھر ان کے پاس واپس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو، اللہ کی قسم! نہ وہ خود گمراہ ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے کوئی گمراہ ہوا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا عبد العزيز (1) بن معاوية، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الجُعْفي، حدثنا عبد الله بن عبد ربِّه العِجْلي، حدثنا شُعْبة، عن قتادة، عن حميد بن عبد الرحمن، عن أبي سعيد الخُدْري، عن عِمران بن حُصَين، قال: قال رسول الله ﷺ: "النظَرُ إلى عليٍّ عِبادةٌ" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، وشواهدُه عن عبد الله بن مسعود صحيحةٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4681 - ذا موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، وشواهدُه عن عبد الله بن مسعود صحيحةٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4681 - ذا موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس کے شواہد بھی صحیح ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس کے شواہد بھی صحیح ہیں۔
حدَّثَناه عبد الباقي بن قانِع الحافظ، حدثنا صالح بن مُقاتل بن صالح، حدثنا محمد بن عُبيد بن عُتبة، حدثنا عبد الله بن محمد بن سالم، حدثنا يحيى بن عيسى الرَّمْلي، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: "النظَرُ إلى وجه عليٍّ عِبادةٌ" (1). تابعه عمرُو بن مُرّة عن إبراهيم النَّخَعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4682 - وذا موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4682 - وذا موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔“ اس روایت کی متابعت عمرو بن مرہ نے ابراہیم نخعی کے واسطے سے بھی کی ہے۔