کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اس مقدمے میں فیصلہ کہ تین آدمیوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت سے تعلق قائم کیا
حدثني علي بن حَمْشاذ، حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، قال: قال عليٌّ: بعثَني رسولُ الله ﷺ إلى اليمن، قال: فقلتُ: يا رسول الله، إني رجلٌ شابٌّ، وإنه يَرِدُ عليَّ من القضاء ما لا عِلمَ لي به، قال: فوضع يدَه على صدري وقال: "اللهم ثبِّت لسانَه واهدِ قلبَه"، فما شَكَكتُ في القَضاء - أو في قَضاءٍ - بعدُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4658 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4658 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک نوجوان شخص ہوں اور میرے پاس ایسے مقدمات آئیں گے جن کا مجھے علم نہیں ہے، تو آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک میرے سینے پر رکھا اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ» ”اے اللہ! اس کی زبان کو ثابت رکھ اور اس کے دل کو ہدایت دے،“ تو اس کے بعد مجھے کبھی فیصلوں میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الأجلحُ، عن الشَّعْبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقَم، قال: بينا أنا عند رسول الله ﷺ إذ جاءه رجلٌ من أهل اليمن، فجعل يُحدِّث النبيَّ ﷺ، ويُخبرُه، فقال: يا رسول الله، أتى عليًّا ثلاثةُ نَفَرٍ يَختَصِمُون في ولدٍ وَقَعُوا على امرأةٍ في طُهْرٍ واحدٍ، فقال لاثنين: طِيبَا نَفْسًا بهذا الولد، ثم قال: أنتم شُركاءُ مُتشاكِسُون، إني مُقرعٌ بينكم، فمن قَرَعَ له فله الولدُ وعليه ثُلثا الديةِ لصاحِبَيه، فأقرَعَ بينهم، فقَرَعَ أحدُهم، فدَفَع إليه الولدَ، فضحك النبيُّ ﷺ حتى بَدَتْ نَواجِدُه، أو قال: أضراسُه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ یمن کا ایک شخص آیا اور اس نے نبی کریم ﷺ کو ایک واقعہ بتاتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین ایسے آدمی آئے جو ایک بچے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ان تینوں نے ایک ہی طہر (پاکی کے ایام) میں ایک خاتون سے تعلق قائم کیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے باری باری دو دو افراد سے کہا کہ تم اس بچے سے دستبردار ہو کر اپنے تیسرے ساتھی کے حق میں خوش دلی کا مظاہرہ کرو، مگر وہ راضی نہ ہوئے، پھر انہوں نے فرمایا: ”تم ایسے شریک ہو جو باہم جھگڑ رہے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، جس کے نام قرعہ نکلے گا بچہ اسی کا ہوگا اور اسے اپنے بقیہ دو ساتھیوں کو (بچے کی) دیت کا دو تہائی حصہ ادا کرنا ہوگا،“ چنانچہ انہوں نے قرعہ اندازی کی اور ان میں سے ایک کے نام قرعہ نکلا تو انہوں نے بچہ اس کے حوالے کر دیا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے۔
حدَّثَناهُ علي بن حَمْشاذَ، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا الأجْلَح، بهذا وزاد فيه فقال النبيُّ ﷺ: "ما أعلمُ فيها إلَّا ما قال عليٌّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد زاد الحديثُ تأكيدًا برواية ابن عُيَينة، وقد تابعَ أبو إسحاق السَّبِيعيُّ (3) الأجلحَ في روايتِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4659 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد زاد الحديثُ تأكيدًا برواية ابن عُيَينة، وقد تابعَ أبو إسحاق السَّبِيعيُّ (3) الأجلحَ في روايتِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4659 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی سابقہ روایت میں یہ اضافہ مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس مقدمے میں میرا فیصلہ بھی وہی ہوتا جو علی نے کیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ کی روایت سے اس کی مزید تاکید ہوتی ہے اور ابو اسحاق سبیعی نے اس کی روایت میں اجلح کی متابعت کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ کی روایت سے اس کی مزید تاکید ہوتی ہے اور ابو اسحاق سبیعی نے اس کی روایت میں اجلح کی متابعت کی ہے۔