حدیث نمبر: 4710
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الأجلحُ، عن الشَّعْبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقَم، قال: بينا أنا عند رسول الله ﷺ إذ جاءه رجلٌ من أهل اليمن، فجعل يُحدِّث النبيَّ ﷺ، ويُخبرُه، فقال: يا رسول الله، أتى عليًّا ثلاثةُ نَفَرٍ يَختَصِمُون في ولدٍ وَقَعُوا على امرأةٍ في طُهْرٍ واحدٍ، فقال لاثنين: طِيبَا نَفْسًا بهذا الولد، ثم قال: أنتم شُركاءُ مُتشاكِسُون، إني مُقرعٌ بينكم، فمن قَرَعَ له فله الولدُ وعليه ثُلثا الديةِ لصاحِبَيه، فأقرَعَ بينهم، فقَرَعَ أحدُهم، فدَفَع إليه الولدَ، فضحك النبيُّ ﷺ حتى بَدَتْ نَواجِدُه، أو قال: أضراسُه (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ یمن کا ایک شخص آیا اور اس نے نبی کریم ﷺ کو ایک واقعہ بتاتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین ایسے آدمی آئے جو ایک بچے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ان تینوں نے ایک ہی طہر (پاکی کے ایام) میں ایک خاتون سے تعلق قائم کیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے باری باری دو دو افراد سے کہا کہ تم اس بچے سے دستبردار ہو کر اپنے تیسرے ساتھی کے حق میں خوش دلی کا مظاہرہ کرو، مگر وہ راضی نہ ہوئے، پھر انہوں نے فرمایا: ”تم ایسے شریک ہو جو باہم جھگڑ رہے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، جس کے نام قرعہ نکلے گا بچہ اسی کا ہوگا اور اسے اپنے بقیہ دو ساتھیوں کو (بچے کی) دیت کا دو تہائی حصہ ادا کرنا ہوگا،“ چنانچہ انہوں نے قرعہ اندازی کی اور ان میں سے ایک کے نام قرعہ نکلا تو انہوں نے بچہ اس کے حوالے کر دیا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيّن في "مسند أحمد" 32 / (19329) لكن صحَّحه بعض الأئمة بترجيح بعض طرقه كما مضى بيانه برقم (2865). وانظر ما بعده.» [ترقيم الرساله 4710] [ترقيم الشركة 4685]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيّن في "مسند أحمد" 32 / (19329) لكن صحَّحه بعض الأئمة بترجيح بعض طرقه كما مضى بيانه برقم (2865). وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے "ضعیف" ہے، جیسا کہ "مسند احمد" (32/ 19329) میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کے بعض طرق کو ترجیح دے کر اس کی تصحیح کی ہے، جیسا کہ نمبر (2865) پر گزر چکا ہے۔ اس کے بعد والی بات بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4710 سے ماخوذ ہے۔