کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اہلِ مدینہ میں سب سے زیادہ فیصلہ کرنے والے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا زياد بن الخليل التُّستري، حدثنا كَثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بَلْجٍ، عن عَمرو بن مَيمون، عن ابن عبّاس، أنَّ النبي ﷺ قال: "أيُّكم يَتولّاني في الدنيا والآخرة؟ " فقال لكلِّ رجلٍ منهم: "أتَتَولّاني في الدُّنيا والآخرة"؟ فقال: لا، حتى مَرَّ على أكثرهم، فقال عليٌّ: أنا أتَولّاك في الدُّنيا والآخرةِ، فقال: "أنت وَلِيّي في الدُّنيا والآخرة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4655 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4655 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میری سرپرستی اور وفاداری قبول کرے گا؟“ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک ایک شخص سے پوچھا: ”کیا تم دنیا اور آخرت میں میرا ولی بننا قبول کرتے ہو؟“ اس نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ ان میں سے اکثر کے پاس سے گزرے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں دنیا اور آخرت میں آپ کا ولی ہوں،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عَلقَمة، عن عبد الله، قال: كنا نَتحدَّث أنَّ أقضى أهلِ المدينة عليُّ بن أبي طالب (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4656 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4656 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم آپس میں یہ بات کیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے بڑے قاضی اور فیصلہ کرنے والے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثني أبي، حدثنا سعيد بن محمد الوَرّاق، عن علي بن حَزَوَّر قال: سمعت أبا مريم الثَّقَفي يقول: سمعتُ عمار بن ياسر يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ لعليٍّ: "يا عليُّ، طُوبَى لمن أَحبَّك وصَدَق فيكَ، ووَيلٌ لمن أبغضَك وكَذَب فيكَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4657 - بل سعيد وعلي متروكان
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4657 - بل سعيد وعلي متروكان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے سنا: ”اے علی! مبارکباد ہے اس شخص کے لیے جو تم سے محبت کرے اور تمہارے بارے میں سچ کہے، اور بربادی ہے اس کے لیے جو تم سے بغض رکھے اور تمہارے متعلق جھوٹ بولے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔