حدیث نمبر: 4711
حدَّثَناهُ علي بن حَمْشاذَ، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا الأجْلَح، بهذا وزاد فيه فقال النبيُّ ﷺ: "ما أعلمُ فيها إلَّا ما قال عليٌّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد زاد الحديثُ تأكيدًا برواية ابن عُيَينة، وقد تابعَ أبو إسحاق السَّبِيعيُّ (3) الأجلحَ في روايتِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4659 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی سابقہ روایت میں یہ اضافہ مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس مقدمے میں میرا فیصلہ بھی وہی ہوتا جو علی نے کیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ کی روایت سے اس کی مزید تاکید ہوتی ہے اور ابو اسحاق سبیعی نے اس کی روایت میں اجلح کی متابعت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4711
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف إسناد سابقه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف إسناد سابقه، سفيان: هو ابن عُيينة.» [ترقيم الرساله 4711] [ترقيم الشركة 4686] [ترقيم العلميه 4659]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف إسناد سابقه، سفيان: هو ابن عُيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی سند کی طرح "ضعیف" ہے۔
تعینِ راوی: سفیان سے مراد: ابن عیینہ ہیں۔
(3) كذا وقع في نسخ "المستدرك"، ولا نظنّه إلا وهمًا، فإنَّ الذي روى هذا الخبر عن الشَّعْبي إنما هو أبو إسحاق الشيباني - وهو سليمان بن أبي سليمان - وليس السَّبيعي، فقد أخرجه من طريقه النسائي (5655) و (5994)، والطبراني في "الكبير" (4989) من طريق خالد بن عبد الله الواسطي، ومحمد بن خلف في "أخبار القضاة" 1/ 93 من طريق أبي إسحاق الفزاري، كلاهما عن أبي إسحاق الشيباني، به. غير أنَّ خالدًا الواسطي أبهم ذكر أبي الخليل عبد الله بن الخليل، فقال: عن رجل من حضرموت.
تصحیح / نوٹ: "المستدرک" کے نسخوں میں ایسا ہی (السبیعی) لکھا ہے، اور ہمارا گمان ہے کہ یہ "وہم" (غلطی) ہے، کیونکہ جس نے یہ خبر امام شعبی سے روایت کی ہے وہ درحقیقت "ابو اسحاق الشیبانی" (سلیمان بن ابی سلیمان) ہیں، نہ کہ "السبیعی"۔
حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے نسائی (5655، 5994) اور طبرانی نے "الکبیر" (4989) میں خالد بن عبداللہ الواسطی کے طریق سے، اور محمد بن خلف نے "اخبار القضاۃ" (1/ 93) میں ابو اسحاق الفزاری کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں اسے ابو اسحاق "الشیبانی" سے لائے ہیں۔ البتہ خالد الواسطی نے ابو الخلیل عبداللہ بن الخلیل کا نام مبہم رکھا ہے اور کہا: "حضرموت کے ایک آدمی سے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4711 سے ماخوذ ہے۔