کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم میں سب سے پہلے حوضِ کوثر پر آنے والا وہ ہوگا جو تم میں سب سے پہلے اسلام لایا
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه حدثنا محمد بن أحمد بن النضر الأزدي، قال: حدثني جدِّي معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله، قال: مَشَيتُ مع النبي ﷺ إلى امرأةٍ، فَذَبَحَت لنا شاةً، فقال رسولٌ الله ﷺ: "لَيدخُلَنَّ رجلٌ من أهل الجنة"، فدخل أبو بكر، ثم قال: "ليدخُلَنّ رجلٌ من أهل الجنة" فدخل عُمر، ثم قال: "ليدخُلَنّ رجلٌ من أهل الجنة، اللهم إن شئتَ فاجعله عليًّا" قال: فدخل عليُّ بن أبي طالب (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4661 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4661 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس گیا، اس نے ہمارے لیے بکری ذبح کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی ایک ایسا شخص داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہے،“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی ایک ایسا شخص داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہے،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی ایک ایسا شخص داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو اسے علی بنا دے،“ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن حاتم الحافظ، حدثنا محمد بن حاتم المُؤدِّب، حدثنا سَيف بن محمد، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن سلمة بن كُهَيل، عن أبي صادِق، عن الأغرّ، عن سلمان، قال: قال رسول الله ﷺ: "أَوَّلُكم وارِدًا عليَّ الحوضَ أوَّلُكم إسلامًا، عليُّ بن أبي طالب" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4662 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4662 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے حوضِ کوثر پر میرے پاس سب سے پہلے پہنچنے والا وہی ہوگا جو تم میں سب سے پہلے اسلام لایا، اور وہ علی بن ابی طالب ہیں۔“
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي حَمْزة، عن زيد بن أرقمَ، قال: أولُ من أسلمَ مع رسولِ الله ﷺ عليُّ بن أبي طالب (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما الخلافُ في هذا الحرف أن أبا بكر الصِّدِّيق ﵁ كان أولَ الرجالِ البالغين إسلامًا، وعليُّ بن أبي طالب تقدَّم إسلامُه قبلَ البُلوغ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4663 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما الخلافُ في هذا الحرف أن أبا بكر الصِّدِّيق ﵁ كان أولَ الرجالِ البالغين إسلامًا، وعليُّ بن أبي طالب تقدَّم إسلامُه قبلَ البُلوغ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4663 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے والے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس معاملے میں اختلاف کی حقیقت یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا بلوغت سے پہلے کے دور کا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس معاملے میں اختلاف کی حقیقت یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا بلوغت سے پہلے کے دور کا تھا۔
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا كثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا داود بن أبي عوف، عن عبد الرحمن بن أبي زياد، أنه سمع عبد الله بن الحارث بن نَوفَل يقول: حدثنا أبو سعيد الخُدْري: أنَّ النبيّ ﷺ دخل على فاطمةَ، فقال: "إني وإياكِ وهذا النائمَ - يعني عليًّا - وهُما يعني الحَسن والحسين - لفي مكانٍ واحدٍ يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4664 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4664 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”میں، تم، یہ سونے والے (یعنی علی) اور یہ دونوں (یعنی حسن اور حسین) قیامت کے دن ایک ہی مقام پر ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔