کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، الثقة المأمون، حدثنا علي بن هاشم بن البَريد، عن أبيه، قال: حدثني أبو سعيد التَّيمي، عن أبي ثابت مولى أبي ذرٍّ، قال: كنت مع عليٍّ يومَ الجمَل، فلما رأيتُ عائشةَ واقفةً دخلني بعضُ ما يَدخُل الناسَ، فكشفَ الله عني ذلك صلاةَ الظهر، فقاتلتُ مع أمير المؤمنين، فلما فرغ ذهبتُ إلى المدينة، فأتيتُ أمَّ سلمة، فقلت: إني والله ما جئتُ أسأل طعامًا ولا شرابًا، ولكني مولًى لأبي ذرٍّ، فقالت: مرحبًا، فقصصتُ عليها قِصّتي فقالت: أين كنتَ حين طارتِ القلوبُ مطايرَها؟ قلت: إلى حيثُ كشفَ اللهُ ذلك عني عند زوالِ الشمس، قالت: أحسنتَ، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ: "عليٌّ مع القرآنِ، والقرآنُ مع عليٍّ، لن يتفرَّقا حتى يَرِدَا عَلَيَّ الحوضَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو سعيد التَّيمي هو عَقِيصا ثقة مأمون، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4628 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو سعيد التَّيمي هو عَقِيصا ثقة مأمون، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4628 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوثابت سے روایت ہے کہ میں جنگِ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو (مدمقابل) کھڑے دیکھا تو میرے دل میں بھی وہ وسوسہ پیدا ہوا جو عام لوگوں کے دلوں میں آ رہا تھا، پھر ظہر کی نماز کے وقت اللہ نے مجھ سے وہ شک دور کر دیا اور میں نے امیر المؤمنین کے ساتھ مل کر قتال کیا، جب جنگ سے فراغت ہوئی تو میں مدینہ گیا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں کھانے پینے کا سوال کرنے نہیں آیا بلکہ میں ابوذر کا غلام ہوں، انہوں نے فرمایا: خوش آمدید، پھر میں نے انہیں اپنا سارا واقعہ سنایا تو انہوں نے پوچھا: تم اس وقت کہاں تھے جب لوگوں کے دل اڑے جا رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: میں وہیں تھا جہاں زوالِ آفتاب کے وقت اللہ نے مجھ سے وہ شک دور فرما دیا، انہوں نے فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے، یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابوسعید تیمی ثقہ و مامون ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابوسعید تیمی ثقہ و مامون ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عَتّاب سهل بن حماد، حدثنا المُختار بن نافع التَّيمي (2)، حدثنا أبو حَيّان التيمي، عن أبيه، عن علي قال: قال رسول الله ﷺ: "رحمَ الله عليًّا، اللهم أدِرِ الحقَّ معه حيثُ دارَ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4629 - مختار بن نافع ساقط
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4629 - مختار بن نافع ساقط
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو اسی طرف موڑ دے جس طرف علی مڑیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن محمد ابن ابنة (1) ابن هانئ العَدْلُ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا هَوْذَة بن خَلِيفة، حدثنا عَوْف عن عبد الله بن عمرو بن هند الجَمَلي، قال: سمعت عليًّا يقول: كنتُ إذا سألتُ رسول الله ﷺ أعطاني، وإذا سَكتُّ ابتدأَني (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4630 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4630 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عمرو بن ہند جملی سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”میں جب رسول اللہ ﷺ سے کچھ سوال کرتا تو آپ ﷺ مجھے عطا فرماتے (جواب دیتے)، اور جب میں خاموش رہتا تو آپ ﷺ خود (علمی گفتگو کی) ابتدا فرماتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔