حدیث نمبر: 4678
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، الثقة المأمون، حدثنا علي بن هاشم بن البَريد، عن أبيه، قال: حدثني أبو سعيد التَّيمي، عن أبي ثابت مولى أبي ذرٍّ، قال: كنت مع عليٍّ يومَ الجمَل، فلما رأيتُ عائشةَ واقفةً دخلني بعضُ ما يَدخُل الناسَ، فكشفَ الله عني ذلك صلاةَ الظهر، فقاتلتُ مع أمير المؤمنين، فلما فرغ ذهبتُ إلى المدينة، فأتيتُ أمَّ سلمة، فقلت: إني والله ما جئتُ أسأل طعامًا ولا شرابًا، ولكني مولًى لأبي ذرٍّ، فقالت: مرحبًا، فقصصتُ عليها قِصّتي فقالت: أين كنتَ حين طارتِ القلوبُ مطايرَها؟ قلت: إلى حيثُ كشفَ اللهُ ذلك عني عند زوالِ الشمس، قالت: أحسنتَ، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ: "عليٌّ مع القرآنِ، والقرآنُ مع عليٍّ، لن يتفرَّقا حتى يَرِدَا عَلَيَّ الحوضَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو سعيد التَّيمي هو عَقِيصا ثقة مأمون، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4628 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوثابت سے روایت ہے کہ میں جنگِ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو (مدمقابل) کھڑے دیکھا تو میرے دل میں بھی وہ وسوسہ پیدا ہوا جو عام لوگوں کے دلوں میں آ رہا تھا، پھر ظہر کی نماز کے وقت اللہ نے مجھ سے وہ شک دور کر دیا اور میں نے امیر المؤمنین کے ساتھ مل کر قتال کیا، جب جنگ سے فراغت ہوئی تو میں مدینہ گیا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں کھانے پینے کا سوال کرنے نہیں آیا بلکہ میں ابوذر کا غلام ہوں، انہوں نے فرمایا: خوش آمدید، پھر میں نے انہیں اپنا سارا واقعہ سنایا تو انہوں نے پوچھا: تم اس وقت کہاں تھے جب لوگوں کے دل اڑے جا رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: میں وہیں تھا جہاں زوالِ آفتاب کے وقت اللہ نے مجھ سے وہ شک دور فرما دیا، انہوں نے فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے، یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابوسعید تیمی ثقہ و مامون ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4678
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي سعيد التيمي عقيصا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي سعيد التيمي عقيصا، فقد انفرد المصنف وابن حبان بتوثيقه، مع اتفاق من تقدَّمهما من الأئمة النقاد على ترك حديثه، وأبو ثابت مولى أبي ذرٍّ لا يُعرف.» [ترقيم الرساله 4678] [ترقيم الشركة 4653] [ترقيم العلميه 4628]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي سعيد التيمي عقيصا، فقد انفرد المصنف وابن حبان بتوثيقه، مع اتفاق من تقدَّمهما من الأئمة النقاد على ترك حديثه، وأبو ثابت مولى أبي ذرٍّ لا يُعرف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ ابو سعید التیمی عقیصا ہے، کیونکہ صرف مصنف (حاکم) اور ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے، جبکہ ان سے پہلے کے ائمہ ناقدین کا اس کی حدیث کو ترک کرنے پر اتفاق ہے۔ نیز ابو ثابت مولیٰ ابی ذر غیر معروف (لا یعرف) ہیں۔
وأخرجه الخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 16/ 470، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 449 من طريق عبد السلام بن صالح، عن علي بن هاشم بن البَريد، به عن أبي ثابت قال: دخلت على أم سلمة فرأيتها تبكي وتذكر عليًا، وقالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "عليٌّ مع الحق، والحقُّ مع عليٍّ، ولن يفترقا حتى يردا عليَّ الحوض يوم القيامة". كذلك رواه بلفظ: "الحق" بدل "القرآن"، وعبد السلام بن صالح هو أبو الصلت ضعفه الأكثرون، وعمرو بن طلحة أحسنُ حالًا منه بكثير.
حوالہ / مصدر: اسے خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (جلد 16، صفحہ 470) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (جلد 42، صفحہ 449) میں عبدالسلام بن صالح کے طریق سے، انہوں نے علی بن ہاشم بن البرید سے، انہوں نے اسی سند کے ساتھ ابو ثابت سے روایت کیا کہ: میں ام سلمہ کے پاس گیا تو انہیں روتے ہوئے اور علی کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: "علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس پہنچ جائیں۔"
تفصیلِ روایت: انہوں نے بھی اسے "القرآن" کی بجائے "الحق" کے لفظ سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبدالسلام بن صالح سے مراد "ابوالصلت" ہے جسے اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، اور عمرو بن طلحہ اس سے حال میں کہیں بہتر ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (4880)، وفي "الصغير" (720) من طريق صالح بن أبي الأسود، عن هاشم بن البريد به بلفظ "القرآن" كرواية عمرو بن طلحة القَنَّاد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (4880) اور "الصغیر" (720) میں صالح بن ابی الاسود کے طریق سے، انہوں نے ہاشم بن البرید سے اسی سند کے ساتھ "القرآن" کے لفظ سے روایت کیا ہے، جیسا کہ عمرو بن طلحہ القناد کی روایت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4678 سے ماخوذ ہے۔