کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے سردار ہیں
حدثنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو حفص عمر بن الحسن الراسِبي، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبَير، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال: "أنا سيّدُ ولدِ آدمَ، وعليٌّ سيدُ العَربِ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وفي إسناده عمر بن الحسن، وأرجو أنه صدوق، ولولا ذلك لحكمتُ بصحتِه على شرط الشيخين. وله شاهد من حديث عُرْوة عن عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4625 - أظن أنه هو يعني عمر بن حسن الراسبي الذي وضع هذا
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وفي إسناده عمر بن الحسن، وأرجو أنه صدوق، ولولا ذلك لحكمتُ بصحتِه على شرط الشيخين. وله شاهد من حديث عُرْوة عن عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4625 - أظن أنه هو يعني عمر بن حسن الراسبي الذي وضع هذا
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے سردار ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کی سند میں عمر بن حسن راوی ہیں جن کے بارے میں مجھے امید ہے کہ وہ صدوق (سچے) ہیں، ورنہ میں اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتا، نیز عروہ کی سیدہ عائشہ سے مروی روایت اس کا شاہد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کی سند میں عمر بن حسن راوی ہیں جن کے بارے میں مجھے امید ہے کہ وہ صدوق (سچے) ہیں، ورنہ میں اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتا، نیز عروہ کی سیدہ عائشہ سے مروی روایت اس کا شاہد ہے۔
أخبرناه أبو بكر محمد بن جعفر القارئ ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد بن ناصِح، حدثنا الحسين بن عُلْوان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ: "ادْعُوا لي سيّدَ العرب"، فقلتُ: يا رسول الله، ألستَ سيد العربِ؟ قال: "أنا سيدُ ولدِ آدمَ، وعليٌّ سيدُ العرب" (1). وله شاهدٌ آخر من حديث جابر:
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس عرب کے سردار کو بلاؤ،“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ عرب کے سردار نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو اولادِ آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے سردار ہیں۔“
حدَّثناه أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي الخازنُ من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن مالك الزَّعفَراني، حدثنا سهل بن عثمان العَسْكري، حدثنا المسيَّب بن شَريك، حدثنا عمر بن موسى الوَجيهي، عن أبي الزُّبَير، عن جابر، قال: قال رسول الله ﷺ: "ادعُوا لي سيّدَ العرب"، فقالت عائشة: ألستَ سيّدَ العربِ يا رسول الله؟ فقال: "أنا سيّدُ ولدِ آدمَ، وعليٌّ سيّدُ العربِ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4626 - وضعه ابن علوان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4626 - وضعه ابن علوان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس عرب کے سردار کو بلاؤ،“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ عرب کے سردار نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے سردار ہیں۔“