کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: امیرالمومنین ذی النورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مسلم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا وُهَيب بن خالد، عن موسى بن عُقْبة، قال: حدثني أبو علقمة مولى عبد الرحمن بن عوف، قال: حدثني كثير بن الصَّلْت، قال: أغفَى عثمانُ بن عفّان في اليوم الذي قُتِل فيه فاستيقظ، فقال: لولا أن يقولَ الناس: تمنّى عثمانُ الفتنة، لحدَّثتكم، قال: قلنا: أصلحكَ الله، فحدِّثْنا فلسنا نقول ما يقول الناسُ! فقال: إني رأيتُ رسول الله ﷺ في منامي هذا، فقال: "إنك شاهِدٌ معنا الجُمعةَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4542 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4542 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
کثیر بن صلت سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جس دن شہید کیے گئے، اس دن انہیں تھوڑی سی اونگھ آئی، پھر جب وہ بیدار ہوئے تو فرمایا کہ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عثمان نے فتنے کی تمنا کی ہے، تو میں تمہیں ایک بات بتاتا۔ ہم نے عرض کیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے، ہمیں ضرور بتائیں، ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو لوگ کہتے ہیں! تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے ابھی خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہے، آپ ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: ”یقیناً تم آنے والا جمعہ ہمارے ساتھ ہی گزارو گے۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السمّاك ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارِثي، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد القطَّان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي سَهْلة مولى عثمان، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ادعُوا لي - أو ليتَ عندي - رجلًا من أصحابي" قالت: قلت: أبو بكر؟ قال: "لا" قلت: عمرُ؟ قال: "لا" قلت: ابن عمِّك عليّ؟ قال: "لا" قلت: فعثمانُ؟ قال: "نعم" قال: فجاء عثمان، فقال: "قُومي"، قال: فجعل النَّبِيّ ﷺ يُسِرُّ إلى عثمان ولَونُ عثمان يتغيّر. قال: فلمَّا كان يومُ الدارِ قلنا: ألا تُقاتل؟ قال: لا، إنَّ رسول الله ﷺ عَهِدَ إِليَّ أمرًا، فأنا صابرٌ نفسي عليه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4543 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4543 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس میرے صحابہ میں سے کسی ایک شخص کو بلاؤ — یا فرمایا: کاش میرے پاس میرا کوئی ایک صحابی ہوتا۔“ میں نے عرض کیا: ابوبکر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: عمر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: آپ کے چچا زاد بھائی علی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو پھر عثمان؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ راوی کہتے ہیں: پس سیدنا عثمان تشریف لائے تو آپ ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: ”تم (یہاں سے) اٹھ جاؤ،“ پھر نبی کریم ﷺ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سرگوشی کرنے لگے اور عثمان کا رنگ بدلنے لگا۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب «یوم الدار» (سیدنا عثمان کے محاصرے کا دن) آیا تو ہم نے عرض کیا: کیا آپ (ان باغیوں سے) قتال نہیں کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، پس میں خود کو اسی پر صبر کرنے والا بنائے ہوئے ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا موسى بن داود الضّبِّي، حَدَّثَنَا الفَرَج بن فَضَالة، عن محمد بن الوليد الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ لعثمان: "إِنَّ الله سيُقمِّصُك قميصًا، فإن أرادك المُنافِقُون على خَلْعِه، فلا تَخْلعْه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4544 - أنى له الصحة ومداره على فرج بن فضالة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4544 - أنى له الصحة ومداره على فرج بن فضالة
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عثمان! یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص (خلافت) پہنائے گا، پس اگر منافقین تمہیں اسے اتارنے پر مجبور کرنا چاہیں، تو تم اسے ہرگز نہ اتارنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ، قالا: حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا يحيى (1) بن صَبِيح، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن عمر بن الخطاب: أنه قال على المنبر: إني رأيتُ في المنام كأنَّ ديكًا نَقَرني ثلاث نَقَرات - أو نَقَدَني ثلاث نَقَدات - فقلت: أعجمي، وإني قد جعلتُ هذا الأمرُ بعدي إلى هؤلاء الستة الذين قُبض رسول الله ﷺ وهو عنهم راضٍ: عثمان وعليّ وطلحة والزبير وعبد الرحمن وسعد (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر مقتل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان ﵁ - وأولُ ما لا يَسَعُ العالِمَ جهلُه من ذلك الوقوفُ على السبب الذي حَدَث ذلك منه: وهو شأنُ عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح، وهو ابن خالة عثمان بن عفّان، والوليدِ بن عُقبة بن أبي مُعَيط، وهو أخو عثمان لأمِّه، فأما عبدُ الله بن سعد بن أبي سَرْح فإِنَّ الأخبار الصحيحة ناطقةٌ بأنه كان كاتبًا لرسول الله ﷺ، فظَهَرتْ خِياناتُه في الكِتابة، فعزلَه رسولُ الله ﷺ، فارتَدّ عن الإسلام، ولَحِقَ بأهل مكة، فكان رسولُ الله ﷺ أباحَ دمَه يومَ الفتح، فلم يُقتَل حتَّى جاء به عثمانُ، وقد راجعَ الإسلامَ، فآمَنَه رسولُ الله ﷺ وحَقَنَ دَمَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر مقتل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان ﵁ - وأولُ ما لا يَسَعُ العالِمَ جهلُه من ذلك الوقوفُ على السبب الذي حَدَث ذلك منه: وهو شأنُ عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح، وهو ابن خالة عثمان بن عفّان، والوليدِ بن عُقبة بن أبي مُعَيط، وهو أخو عثمان لأمِّه، فأما عبدُ الله بن سعد بن أبي سَرْح فإِنَّ الأخبار الصحيحة ناطقةٌ بأنه كان كاتبًا لرسول الله ﷺ، فظَهَرتْ خِياناتُه في الكِتابة، فعزلَه رسولُ الله ﷺ، فارتَدّ عن الإسلام، ولَحِقَ بأهل مكة، فكان رسولُ الله ﷺ أباحَ دمَه يومَ الفتح، فلم يُقتَل حتَّى جاء به عثمانُ، وقد راجعَ الإسلامَ، فآمَنَه رسولُ الله ﷺ وحَقَنَ دَمَه (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں — یا فرمایا: تین بار ٹھونگا ہے — تو میں نے کہا: یہ کوئی «اعجمی» (غیر عرب شخص) ہے، اور میں نے اس امرِ خلافت کو اپنے بعد ان چھ افراد پر منحصر کر دیا ہے جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات کے وقت راضی و خوشنود تھے: عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن اور سعد (رضی اللہ عنہم)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ — اور وہ پہلی چیز جس سے کسی عالم کا ناواقف ہونا روا نہیں، وہ اس سبب کی معرفت ہے جو ان کے متعلق پیش آیا: یعنی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ جو سیدنا عثمان کے خالہ زاد بھائی تھے، اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا معاملہ جو ان کے مادری بھائی تھے۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں صحیح اخبار بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب تھے، پھر کتابت میں ان کی خیانت ظاہر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں معزول کر دیا، جس پر وہ مرتد ہو کر مکہ چلے گئے، اور رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ان کا خون مباح قرار دے دیا تھا، لیکن وہ قتل نہیں ہوئے یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انہیں (دوبارہ اسلام لانے پر) لے کر آئے، پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں امان دی اور ان کا خون معاف فرما دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ — اور وہ پہلی چیز جس سے کسی عالم کا ناواقف ہونا روا نہیں، وہ اس سبب کی معرفت ہے جو ان کے متعلق پیش آیا: یعنی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ جو سیدنا عثمان کے خالہ زاد بھائی تھے، اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا معاملہ جو ان کے مادری بھائی تھے۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں صحیح اخبار بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب تھے، پھر کتابت میں ان کی خیانت ظاہر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں معزول کر دیا، جس پر وہ مرتد ہو کر مکہ چلے گئے، اور رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ان کا خون مباح قرار دے دیا تھا، لیکن وہ قتل نہیں ہوئے یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انہیں (دوبارہ اسلام لانے پر) لے کر آئے، پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں امان دی اور ان کا خون معاف فرما دیا۔