کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک جنت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے چمکتی ہے
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن هشام بن أبي الدُّمَيك، حَدَّثَنَا الحسين (1) بن عُبيد الله، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه، عن سهل بن سعد قال: سألَ رجلٌ النَّبِيَّ ﷺ: أفي الجنةِ بَرْقٌ؟ قال: "نعم، والذي نفسي بيدِه، إنَّ عثمانَ ليتحوّلُ من مَنزلٍ إلى منزلٍ، فتَبْرُق له الجنّةُ" (2). إن كان الحسين (3) بن عبيد الله هذا حَفِظه عن عبد العزيز بن أبي حازم، فإنه صحيحٌ على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4540 - ذا موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4540 - ذا موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ کیا جنت میں بجلی کی چمک ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! یقیناً عثمان جب ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہوتے ہیں تو (ان کے نور سے) جنت چمک اٹھتی ہے۔“
اگر حسین بن عبید اللہ نے اسے عبد العزیز بن ابی حازم سے (اسی طرح) محفوظ رکھا ہے، تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
اگر حسین بن عبید اللہ نے اسے عبد العزیز بن ابی حازم سے (اسی طرح) محفوظ رکھا ہے، تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مسلم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا وُهَيب بن خالد، حَدَّثَنَا موسى ومحمد وإبراهيم بنو عُقْبة، قالوا: حَدَّثَنَا أبو أُمّنا أبو حَبيبة (1) قال: شهدتُ أبا هريرة وعثمانٌ محصورٌ في الدار، واستأذنَه (2) في الكلام، فقال أبو هريرة: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنها ستكون فِتنةٌ واختلافٌ - أو اختلافٌ وفِتنةٌ - " قال: قلنا: يا رسول الله، فما تأمُرُنا؟ قال: "عليكم بالأمِيرِ وأصحابِه"، وأشارَ إلى عُثمان (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4541 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4541 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (اپنے گھر میں) محصور تھے تو انہوں نے گفتگو کی اجازت چاہی، اس موقع پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب فتنہ اور اختلاف رونما ہوگا — یا فرمایا کہ اختلاف اور فتنہ ہوگا۔“ ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر آپ ہمیں اس وقت کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم امیر اور ان کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا،“ اور آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔