کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو نماز کی امامت کا حکم دینا
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا عُمر بن عليّ المُقدَّميّ، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: أذَّنَ بلالٌ لصلاة الظُّهر، فجاءَ الصِّيَاحُ قِبَلَ بني عمرو بن عوف: أنه قد وَقَعَ بينهم شَرٌّ حتى تَرامَوا بالحجارة، فأتاهم النبيُّ ﷺ، فقال: "يا أبا بكر، إن أُقيمتِ الصلاةُ فتَقدَّمْ فصَلِّ بالناس"، فقال: نعم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشَّيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على ذلك في مَرَضِ النبي ﷺ الذي ماتَ فيه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4459 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشَّيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على ذلك في مَرَضِ النبي ﷺ الذي ماتَ فيه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4459 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی، اسی دوران بنو عمرو بن عوف کی طرف سے شور و غل کی آواز آئی کہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو گیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا، پس نبی کریم ﷺ ان کے پاس (صلح کے لیے) تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے ابوبکر! اگر نماز کھڑی ہو جائے تو تم آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھا دینا“، انہوں نے عرض کیا: جی بہتر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس پر تو اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں ایسا فرمایا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس پر تو اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں ایسا فرمایا تھا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا نصر بن منصور المَروزَي، حدثنا بِشر بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا المُختار بن فُلفُل، عن أنس بن مالك، قال: بَعَثَني بنو المُصطَلِق إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: إِلى مَن نَدفَعُ صَدَقَاتِنا بعدَك؟ قال: فأتيتُه فسألتُه، فقال: "إلى أبي بكر"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، قالوا: ارجِعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بأبي بكر حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيته فأخبرته، فقال: "إلى عمرَ"، فقالوا: ارجعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بعُمرَ حَدَثُ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال: "إلى عثمانَ"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فقالوا: ارجِعْ إليه فَسَلْه: فإِن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال: إن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ فتبًّا لكم آخرَ الدَّهرِ، فتَبًّا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4460 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4460 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو مصطلق نے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور کہا کہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ آپ کے بعد ہم اپنے صدقات (زکوٰۃ) کس کے حوالے کریں؟ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کے“، میں ان کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے پاس دوبارہ جائیں اور پوچھیں کہ اگر ابوبکر کو کچھ (وفات) ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو فرمایا: ”عمر کے“، انہوں نے کہا: پھر جائیے اور پوچھیں کہ اگر عمر کو کچھ ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو فرمایا: ”عثمان کے“، میں نے واپس جا کر انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: پھر جا کر پوچھیں کہ اگر عثمان کو کچھ ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عثمان کو کچھ ہو جائے تو پھر تمہارے لیے آخری زمانے تک ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسحاق بن الحسن الطحّان، حدثنا موسى بن ناصح، حدثنا أبو معاوية، عن عمر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ لأبي بكر وعمر: "لا يتأمَّرُ عليكما أحدٌ بعدي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: ”میرے بعد تم دونوں پر کوئی بھی حکمرانی نہیں کرے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذَان، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم، حدثنا عَمرو بن زياد، حدثنا غالب القَرْقَساني، عن أبيه، عن جدِّه حبيب بن حبيب، قال: شهدتُ رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت: "هل قُلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ"، قال: قلتُ: وثانيَ اثنين في الغار المُنِيفِ وقد … طافَ العَدوُّ به إِذْ صَاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به أَحدا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4461 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4461 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
حبیب بن حبیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ ﷺ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں کچھ کہا ہے؟ سناؤ تاکہ میں سنوں“، انہوں نے عرض کیا: (میں نے یہ اشعار کہے ہیں) ”وہ عظیم الشان غار میں دو میں سے دوسرے تھے جبکہ دشمن پہاڑ پر چڑھ کر ان کے گرد چکر لگا رہا تھا، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے، لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ تمام مخلوق میں آپ ﷺ نے کسی کو ان کے برابر نہیں ٹھہرایا۔“
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغَول، عن أبي الشَّعْثاء الكِنْدي، عن مُرّة الطَّيِّب، قال: جاء أبو سفيان بن حَرْب إلى عليّ بن أبي طالب فقال: ما بالُ هذا الأمرِ في أقلِّ قريشٍ قِلّةً، وأذلِّها ذُلًّا - يعني أبا بكر - والله لئن شئتُ لأملأنَّها عليه خَيلًا ورِجالًا، فقال علي: لَطالما عادَيتَ الإسلامَ وأهلَه يا أبا سفيان، فلم يَضُرَّه ذلك شيئًا، إنا وَجَدْنا أبا بكر لها أهلًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4462 - سنده صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4462 - سنده صحيح
حافظ طلحہ بابر
مرہ الطیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابو سفیان بن حرب، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے کہ یہ معاملہ (خلافت) قریش کے سب سے کم تعداد والے اور سب سے کمزور قبیلے (یعنی ابوبکر) میں چلا گیا؟ اللہ کی قسم! اگر آپ چاہیں تو میں ان کے خلاف اس جگہ کو گھوڑوں اور جوانوں سے بھر دوں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابو سفیان! تم ایک طویل عرصے سے اسلام اور اہل اسلام کی دشمنی کرتے آئے ہو مگر اس نے اسلام کو ذرہ برابر نقصان نہیں پہنچایا، بے شک ہم نے ابوبکر کو اس (خلافت) کا اہل پایا ہے۔“