حدیث نمبر: 4511
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذَان، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم، حدثنا عَمرو بن زياد، حدثنا غالب القَرْقَساني، عن أبيه، عن جدِّه حبيب بن حبيب، قال: شهدتُ رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت: "هل قُلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ"، قال: قلتُ: وثانيَ اثنين في الغار المُنِيفِ وقد … طافَ العَدوُّ به إِذْ صَاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به أَحدا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4461 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

حبیب بن حبیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ ﷺ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں کچھ کہا ہے؟ سناؤ تاکہ میں سنوں“، انہوں نے عرض کیا: (میں نے یہ اشعار کہے ہیں) ”وہ عظیم الشان غار میں دو میں سے دوسرے تھے جبکہ دشمن پہاڑ پر چڑھ کر ان کے گرد چکر لگا رہا تھا، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے، لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ تمام مخلوق میں آپ ﷺ نے کسی کو ان کے برابر نہیں ٹھہرایا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4511
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، وهو مكرر الخبر المتقدم برقم (4461). غير أنه قال في آخر البيت الثاني هناك: بدلًا، بدل أحدًا.» [ترقيم الرساله 4511] [ترقيم الشركة 4487] [ترقيم العلميه 4461]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده تالف، وهو مكرر الخبر المتقدم برقم (4461). غير أنه قال في آخر البيت الثاني هناك: بدلًا، بدل أحدًا.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’تالف‘‘ (برباد/ سخت ضعیف) ہے، اور یہ خبر (نمبر 4461) پر گزر چکی ہے اور مکرر ہے۔ سوائے اس کے کہ وہاں دوسرے شعر کے آخر میں ’’احدا‘‘ کی جگہ ’’بدلا‘‘ تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4511 سے ماخوذ ہے۔